غزہ میں ہرقیمت پرجنگ روکی جائے،دو ریاستی حل کےلیےسعودی کوششیں قابل تحسین ہیں: حسین الشیخ
فلسطینی نائب صدر حسین الشیخ نے العربیہ/الحدث سے گفتگو میں کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ میں جنگ بندی کسی بھی قیمت پر قبول کرنے کو تیار ہے تاکہ عوام کو مزید مصائب سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی حماس کے ساتھ رابطے میں ہے اور اسے مسلسل مشورہ دیتی ہے، حالانکہ غزہ کے حوالے سے مذاکرات میں حماس نے تنہائی اختیار کر رکھی ہے۔
حماس کو پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی
حسین الشیخ نے کہا کہ حماس کو اپنی پالیسیوں، اتحادوں اور قومی سوچ پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کی واپسی کی مخالفت اسرائیل اور حماس دونوں کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے کسی معاہدے سے بھاگ رہے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ جنگ کے اگلے دن ہی فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں واپس آنا چاہیے کیونکہ عوام اب حماس کے نعروں سے متاثر نہیں ہوتے۔
خالد مشعل اور خلیل الحیہ کے نام پیغام
فلسطینی نائب صدر نے حماس کے بیرون ملک سربراہ خالد مشعل کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے فلسطین میں ہونے چاہییں، کسی اور دارالحکومت میں نہیں۔ اسی طرح خلیل الحیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے لیے حقیقی جدوجہد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حماس نئے قومی کونسل اور عالمی سطح پر انتخابات کے انعقاد پر راضی ہو گئی ہے، تاکہ ہر فلسطینی اپنے نمائندے منتخب کر سکے۔
اسرائیلی منصوبہ اور فلسطینیوں کی بے دخلی
حسین الشیخ کے مطابق اسرائیل فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کرنا اور غزہ پر دوبارہ قبضہ چاہتا ہے، جبکہ اس کا مقصد تمام سابقہ معاہدوں کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان سیاسی تعلقات مکمل طور پر منقطع ہیں اور اسرائیلی منصوبہ، جسے وہ "فیصلہ کن مرحلہ" کہتے ہیں، دراصل مغربی کنارے سے شروع ہو چکا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
سعودی عرب کی کامیاب سفارت کاری
دو ریاستی حل کے بارے میں بات کرتے ہوئے حسین الشیخ نے کہا کہ سعودی عرب اتفاقِ رائے کے ساتھ اس حل کے تحفظ کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی سفارت کاری مغربی دنیا کو بھی اس مقصد کے لیے یکجا کرنے میں کامیاب رہی ہے اور فلسطینی اتھارٹی اور سعودی عرب کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر رابطہ اور ہم آہنگی موجود ہے۔
نکبہ سے بڑی تباہی
انہوں نے کہا کہ حماس نے امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف کی پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی تھی، مگر نیتن یاھو نے اپنی شرائط بڑھا دیں۔ ان کے مطابق اسرائیل نے 7 اکتوبر کے واقعات کو ایک پرانے منصوبے کے نفاذ کے لیے استعمال کیا جس کا مقصد فلسطینی عوام کا صفایا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی عوام پر جو سانحہ آیا ہے وہ 1948 کی نکبہ سے بھی بڑا ہے۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے غیر معمولی حملے کے بعد اسرائیل میں 1219 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر شہری تھے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوجی کارروائی میں غزہ میں اب تک کم از کم 62 ہزار 622 فلسطینی جان سے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے، اقوام متحدہ نے ان اعداد و شمار کو درست قرار دیا ہے۔