شمالی غزہ میں مزید فوجی کارروائیوں کا امکان: اسرائیلی افواج کے ہاتھوں مزید چار افراد ہلاک

اسرائیل کی طرف سے غزہ میں فاقوں کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایک ہسپتال اور عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے اتوار کے روز غزہ شہر کے جنوب میں ایک فوجی زون سے گذرنے والے امداد کے چار متلاشیوں کو ہلاک کر دیا۔ فلسطینی خوراک کی تقسیم کے مقام تک پہنچنے کے لیے باقاعدگی سے اس علاقے سے گذرتے ہیں۔

ان اموات سے خوراک کی تلاش میں ہلاک شدہ فلسطینیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ غزہ کی پٹی کے بعض حصے قحط کی لپیٹ میں ہیں اور اسرائیل کی فوج نے شمالی غزہ میں فوجی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔

العودہ ہسپتال اور دو عینی شاہدین نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ جب فوجیوں نے نیتزارم میں ایک ہجوم پر فائرنگ کی تو چار فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ امدادی مقام سے سینکڑوں میٹر (گز) دور پیش آیا۔

بوریج پناہ گزین کیمپ سے تعلق رکھنے والے اور دو بچوں کے والد محمد عابد نے کہا، "گولیاں اندھا دھند چل رہی تھیں۔ کئی لوگ بھاگ گئے اور بعض گولی لگنے کے بعد زمین پر گر گئے۔"

عابد اور امداد کے ایک اور متلاشی احمد سید نے بتایا کہ فوجیوں نے اس وقت گولی چلائی جب ایک گروپ مقررہ وقت سے قبل تقسیمی مرکز کی طرف بڑھا۔

سید نے کہا کہ انہوں نے اور دوسروں نے دو لوگوں کی مدد کی جو گولیوں سے زخمی ہوئے تھے۔ ایک کو کندھے میں اور دوسرے کو ٹانگ میں گولی لگی۔

اسرائیلی فوج اور جی ایچ ایف نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔

غذائیت کی قلت سے ہونے والی اموات

ان علاقوں میں یہ چار اموات تازہ ترین ہیں جہاں اقوامِ متحدہ کے قافلوں پر لٹیرے اور مایوس ہجوم حملہ کر دیتے ہیں اور جہاں لوگ جی ایچ ایف کے زیرِ انتظام امدادی مقامات کی طرف جاتے ہوئے گولی لگنے سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق تقسیمی مراکز یا اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی گروپوں کے زیرِ استعمال قافلے کے راستوں پر امداد کی تلاش میں 2,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور 13,500 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

وزارت نے ہفتے کے روز کہا کہ اس جنگ میں کم از کم 62,622 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں لاپتہ افراد بھی شامل ہیں جن کی ہلاکت کی تصدیق وزارت کی خصوصی عدالتی کمیٹی نے کی ہے۔

نیز کہا گیا کہ غذائیت کی قلت سے ہونے والی اموات کی تعداد بڑھ کر 281 ہو گئی۔ ان میں ایک بچہ بھی شامل ہے جس سے 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے بچوں کی اموات کی تعداد 115 ہو گئی۔

’بلاتؤقف دھماکے‘

غزہ شہر کے بالکل شمال میں گنجان آباد پناہ گزین کیمپ جبالیہ میں رہائشیوں نے بتایا کہ انہوں نے غزہ شہر کو فتح کرنے کے اسرائیلی اعلان کے چند دن بعد رات بھر شدید دھماکوں کا سامنا کیا اور وہ مسلسل خوف میں جی رہے ہیں۔

اسامہ مطار نے کہا کہ انہوں نے مکانات کی جگہ ملبے کے ڈھیر دیکھے ہیں اور محلے پہچانے نہیں جاتے۔ غزہ شہر کے اس حصے میں ان کے خاندان نے شہر کے جنوبی کنارے کے ایک محلے سے بے گھر ہونے کے بعد پناہ لی ہوئی ہے۔

انہوں نے جنگ میں پہلے سے تباہ شدہ جنوبی غزہ کے ایک قصبے کے بارے میں کہا۔ "وہ اسے رفح کی طرح تباہ کر دینا چاہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں میں مسلسل دھماکے اور حملے ہوئے ہیں۔"

جبالیہ سے مغرب کی طرف بھاگتے والے ایک سکول ٹیچر سلیم ظاہر نے کہا کہ انہوں نے ہتھیاروں سے لیس روبوٹس کو دھماکہ خیز مواد لگاتے ہوئے دیکھا۔ خدشہ ہے کہ یہ شمال سے فلسطینیوں کو زبردستی نکالنے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا: "مقصد واضح ہے، زمین پر موجود ہر چیز تباہ کر دینا اور لوگوں کو منتقلی پر مجبور کرنا۔"

غزہ شہر پر اسرائیل کے حملے سے قبل لاکھوں فلسطینیوں کے جنوب سے انخلاء کے بہت کم آثار ہیں جس کے بارے میں اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ بدستور حماس کا گڑھ ہے۔ بہت سے لوگ بار بار نقلِ مکانی سے تھک چکے ہیں اور اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ کوئی بھی علاقہ بشمول نام نہاد انسانی مراکز تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

فوجی کارروائی سے لاکھوں شہریوں کی جانوں کو خطرہ ہے جو ایک ایسے علاقے میں پناہ گزین ہیں جہاں اسرائیل نے متعدد بار حملہ کیا ہے لیکن پھر بھی اس کا خیال ہے کہ یہاں مزاحمت کاروں کی سرنگوں کا زیرِ زمین نیٹ ورک موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں