عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی افواج کے زیرِ حراست اس کے عملے کے ایک رکن کو چار ہفتے سے زائد عرصے کے بعد اتوار کو رہا کر دیا گیا۔
ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "اس خبر سے بہت تسلی ہوئی کہ غزہ میں 21 جولائی سے زیرِ حراست ہمارے ساتھی کو آج صبح رہا کر دیا گیا۔" انہوں نے ڈبلیو ایچ او کے تمام عملے اور صحت اور انسانی ہمدردی کے کارکنان کے لیے تحفظ کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
جولائی میں اقوامِ متحدہ نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے شہر دیر البلح میں اس کے عملے کی رہائش گاہ اور مرکزی گودام پر حملہ کیا تھا۔
اس دوران ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ اس کے عملے کے دو ارکان اور دو افرادِ خانہ کو اسرائیلی افواج نے حراست میں لیا تھا۔ بعد میں تین کو رہا کر دیا گیا جبکہ ایک زیرِ حراست رہا۔
گذشتہ ہفتے ایک عالمی نگراں ادارے نے غزہ میں قحط کے زبردست خطرے سے آگاہ کیا تھا جس سے جنگ زدہ فلسطینی انکلیو میں مزید انسانی امداد کی اجازت دینے کے لیے اسرائیل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے غزہ میں شعبۂ صحت کو "منہدم" قرار دیا جو ایندھن اور طبی سامان کی قلت اور اکثر بہت زیادہ ہلاکتوں کا شکار ہوتا ہے۔