27 ستمبر 2025 کو تل ابیب میں اسرائیلی قیدیوں کے اہلِ خانہ کے زیرِ اہتمام حکومت مخالف مظاہرے کے دوران ایک خاتون احتجاج کرتے ہوئے۔ (اے ایف پی)
نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقات سے قبل اسرائیلیوں کا غزہ معاہدے کے لیے احتجاج
دونوں کی پیر کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات طے شدہ ہے
ہزاروں اسرائیلیوں نے ہفتے کے روز تل ابیب میں ریلی نکالی اور غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کا مطالبہ کیا جبکہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تیاری کر رہے ہیں۔
علاقے کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 92 افراد ہلاک ہو گئے جن میں سے 45 کا تعلق غزہ شہر سے تھا۔
مظاہرین نے ایک بڑا بینر لہرایا جس پر لکھا تھا: "تمام قیدیوں کو ابھی وطن واپس لے کر آئیں۔"
"صرف ایک چیز ہمیں کھائی میں گرنے سے بچا سکتی ہے اور وہ ایک مکمل، جامع معاہدہ ہے جس سے جنگ کا خاتمہ ہو اور تمام قیدی اور فوجی گھر واپس آ جائیں،" غزہ میں بدستور اسیر عمری میران کی بیوی لیشے میران لاوی نے کہا۔
ٹرمپ کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا: "آپ وزیرِ اعظم نیتن یاہو پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ اس جنگ کو طول دینے سے صرف عمری اور دیگر قیدیوں کی جانوں کو مزید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔"
نیتن یاہو اور ٹرمپ پیر کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کرنے والے ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے جنگ بندی کی امید ظاہر کی لیکن جمعہ کے روز نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ اسرائیل حماس کا "کام تمام" کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کو نامہ نگاروں کو بتایا، "لگتا ہے غزہ میں کوئی معاہدہ ہونے والا ہے، میرے خیال میں یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس سے قیدی وطن واپس آ جائیں گے اور جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔"
ریلی میں شرک رونن اوہل نے کہا، "کوئی خط، کوئی اعلان، کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اب ایک موقع ہے کہ آپ لیڈر بننے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔"
لیکن اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بین گویر نے کسی معاہدے پر رضامندی کی صورت میں نیتن یاہو کو خبردار کیا۔
انہوں نے ایکس پر پوسٹ کیا، "جناب وزیرِ اعظم، آپ کے پاس حماس کی مکمل شکست کے بغیر جنگ ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔"
نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کا انحصار بین گویر جیسے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی حمایت پر ہے جو جنگ کے خاتمے کی مخالفت کرتے ہیں۔