غزہ کے حوالے سے ثالثوں کی جانب سے کوئی نئی تجاویز موصول نہیں ہوئیں : حماس کی تصدیق

تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ ثالثوں کی جانب سے موصول ہونے والی کسی بھی تجویز کا مثبت اور ذمہ دارانہ انداز میں جائزہ لینے کے لیے تیار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فلسطینی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ اسے ثالثوں کی جانب سے کوئی نئی تجاویز موصول نہیں ہوئیں۔ تنظیم نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 9 ستمبر کو قطری دار الحکومت دوحہ میں اس کی قیادت پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی کوشش کے بعد سے مذاکرات معطل ہیں۔

تنظیم نے یہ بات اتوار کو ایک بیان میں واضح کی۔ یہ بیان فلسطینی خبر رساں ایجنسی "شہاب" نے "ایکس" پر پوسٹ کیا۔

بیان میں حماس نے اس امر پر بھی زور دیا کہ وہ "بردار ثالثوں کی جانب سے موصول ہونے والی کسی بھی تجویز کا مثبت اور ذمے دارانہ انداز میں جائزہ لینے کے لیے تیار ہے، جو فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ کرے"۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے 21 نکاتی امریکی منصوبے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا "مجھے لگتا ہے کہ ہمارے پاس شاید غزہ کے حوالے سے ایک معاہدہ ہے"۔

انھوں نے کہا کہ معاملات "معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں ... مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا معاہدہ ہو گا جو یرغمالیوں کی رہائی کا باعث بنے گا۔ یہ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ہو گا"۔

دوسری جانب فلسطینی ذرائع نے "العربیہ" کو بتایا کہ حماس جنگ بندی کی تجویز پر مثبت رویہ اپنانے کے لیے تیار ہے اور اس نے غزہ کے انتظام سے متعلق مصر کی پیش کردہ ایک تجویز سے اتفاق بھی کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق تنظیم مستقل فائر بندی اور اسرائیلی افواج کے انخلا کی بھی حامی ہے۔ ساتھ ہی حماس کا موقف ہے کہ اس کا اسلحہ قومی حق ہے جو قبضے کے وجود سے جڑا ہے اور وہ اسرائیل کے ساتھ کئی سالہ جنگ بندی پر معترض نہیں۔

ادھر اسرائیلی میڈیا نے بتایا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات سے قبل واشنگٹن کے جنگ بندی منصوبے کی بعض شقوں میں ترمیم کے خواہاں ہیں۔

ذرائع کے مطابق منصوبے کے بیشتر نکات اسرائیل کے لیے قابلِ قبول اور مناسب ہیں، تاہم کچھ حصوں میں نیتن یاہو تبدیلی چاہتے ہیں۔

اسرائیلی ٹی وی "چینل 13" کے مطابق اعلیٰ اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ غزہ کی صورتِ حال پر امریکی انتظامیہ کا صبر ختم ہوتا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں