غزہ سے، خان یونس پر اسرائیلی گولہ باری جاری ہے - 30 اکتوبر 2025 - رائٹرز
غزہ سے تین لاشیں وصول کرنے کے بعد... اسرائیل کی خان یونس پر بم باری
فوجی ذریعے کا غالب گمان ہے کہ غزہ سے حاصل ہونے والی تینوں لاشیں یرغمالیوں کی نہیں ہیں
العربیہ اور الحدث کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے ہفتے کو غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر کے علاقے خان یونس کے مشرقی حصے پر بم باری کی۔
اسی دوران اسرائیلی افواج نے غزہ شہر کے مشرق میں رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے اور تباہ کرنے کی کارروائیاں جاری رکھیں، جبکہ علاقے کی فضاؤں میں ڈرون طیاروں کی بڑی تعداد مسلسل پرواز کر رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسرائیل نے بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے ذریعے غزہ سے تین نا معلوم لاشیں وصول کی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے "فرانس پریس" سے بات کرتے ہوئے ایک اسرائیلی فوجی ذریعے نے کہا کہ غالب امکان ہے کہ یہ لاشیں یرغمالیوں کی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق لاشوں کو شناخت کے لیے فرانزک لیبارٹری منتقل کر دیا گیا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
جمعے کو ملی ان تین لاشوں کے علاوہ حماس اب تک اپنے قبضے میں موجود 28 یرغمالیوں میں سے 17 کی لاشیں واپس کر چکی ہے۔ ان کو جنگ بندی کے آغاز پر لوٹایا جانا تھا لیکن حماس کا کہنا ہے کہ باقی لاشوں کے مقامات کا تعین کرنا مشکل ہے۔
اس ماہ جنگ بندی کے آغاز کے بعد حماس نے اپنے قبضے میں موجود 20 زندہ یرغمالیوں کو رہا کر دیا تھا اور ہلاک شدہ افراد کی لاشیں واپس کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
لاشوں کی واپسی میں بار بار تاخیر پر اسرائیلی حکومت نے شدید غصے کا اظہار کیا ہے اور حماس پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ یرغمالیوں کے اہلِ خانہ نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ حماس کو معاہدے پر عمل درآمد پر مجبور کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔
ابھی تک 10 ایسے یرغمالیوں کی لاشیں غزہ میں موجود ہیں جو 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران اغوا کیے گئے تھے، اس کے علاوہ ایک اسرائیلی فوجی کی لاش بھی موجود ہے جو 2014 کی جنگ میں مارا گیا تھا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
دوسری جانب حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ فلسطینیوں کا باہمی اتحاد خطرات سے نکلنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اندرونی اتحاد کوئی اختیار نہیں بلکہ فرض ہے۔
اس بیان کے بعد فتح تحریک کا رد عمل فوراً سامنے آیا۔ فتح کے ترجمان منذر الحائک نے زور دے کر کہا کہ حماس کو یا تو علیحدگی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا یا قومی وحدت کا۔
فتح نے یہ بھی کہا کہ قومی اتحاد کا راستہ صرف اس وقت ممکن ہے جب حماس قانونی اتھارٹی کو تسلیم کرے اور غزہ میں انتظامی کمیٹی کو فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت مانے۔