غزہ: بنکوں کے دروازے کھل گئے مگر کرنسی نایاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے اعلان کو 21 دن سے زائد گزرنے کے باوجود صورتحال ابھی بھی نارمل ہونے کی طرف نہیں جا رہی ہے۔ آئے روز اسرائیلی فوج بمباری کرتی ہے اور پچھلے دو سال سے بے گھر اور در بدر پھرنے والے فلسطینیوں کو یہ ہر وقت دڑھکا لگا رہتا ہے کہ جنگ کہیں دوبارہ شروع نہ ہو جائے۔

غزہ میں نارمل صورتحال کا ایک اور انڈیکیٹر اس کے بند ہو چکے بنکوں کا کھلنا اور دوبارہ سے آپریشنل ہونا ہے مگر بندوقوں کے ٹھنڈا ہونے اور بنکوں کے دروازے کھلنے کے باوجود ان کے پاس کیش بالکل نہیں ہے۔

غزہ کے جنگ زدہ لوگ اس جنگ بندی کے نفاذ کے اعلان کے باوجود ابھی تک بنکوں سے کیش وصول کرنے سے محروم ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی رکی ہوئی تنخواہیں بھی انہیں بنکوں سے ادا ہونے کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوئی ہے۔

یاد رہے غزہ میں بنکوں کو جنگ بندی کے ایک ہفتے بعد یعنی 16 اکتوبر سے دوبارہ کھولا گیا تھا۔ جس کے بعد بنکوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں نظر آئیں۔ لیکن یہ قطاریں جتنی لمبی تھی بنکوں کے پاس سرمایے کی اتنی ہی قلت تھی بلکہ بنکوں کا سرمایہ بالکل ہی خالی تھا۔

61 سالہ وائل ابو فارس بنک آف فلسطین کے باہر موجود تھے۔ انہوں نے کہا بنک میں بالکل بھی پیسے نہیں ہیں۔ ہم یہاں آتے ہیں اور صرف کاغذی کارروائی کر کے چلے جاتے ہیں۔

غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کو جنگ بندی کے بعد رقم کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ اپنے کھانے کے لیے کچھ خرید سکیں لیکن اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد دیگر بہت سی اشیاء کے ساتھ بنکوں کو کرنسی کی فراہمی بھی روک دی۔

تنخواہیں وصول کرنے کے لیے بھاری رقم کی ادائیگی

غزہ کے ماہر معیشت محمد ابو جیب نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو بتایا کہ بنک کھلے ہیں ، ایئر کنڈیشنرز چل رہے ہیں لیکن بنکوں میں انٹرنیٹ بنکنگ ہو رہی ہے۔ نہ پیسے جمع کرا سکتے ہیں اور نہ پیسے نکلوا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا لوگ تاجروں کے پاس بھی جا رہے ہیں تاکہ اپنی تنخواہیں وصول کر سکیں لیکن یہ لالچی تاجر اس کے بدلے میں بھاری رقم بھی وصول کر رہے ہیں۔ یہ رقم 20 فیصد سے 40 فیصد تک وصول کی جا رہی ہے۔

ایمان الجباری اس وقت سے بنکوں کو استعمال کر رہی ہیں جب پیسے نکلوانے کے لیے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت لگتا تھا۔ انہوں نے کہا اب دو سے تین دن مسلسل بنکوں کے باہر لمبی قطاروں میں لگتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ واپس آئیں آج نہیں۔ پھر چوتھے دن بلاتے ہیں، اس طرح کئی کئی دن لگ جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہا ہمیں زندگی بنکوں کے باہر گزارنے پڑی گی اور جب رقم ملتی ہے تو صرف 400 یا 500 شیکل ملتے ہیں۔ اس رقم سے ہم کیا خرید سکتے ہیں جبکہ آج کل قیمتی آسمانوں کو چھو رہی ہیں۔

ایمان نے مزید کہا میں کام کرتی ہوں اور 20 سے 30 شیکل کے قریب کما لیتی ہوں۔ لیکن میں رات کے کھانے کے لیے صرف روٹی اور پھلیاں وغیرہ لے جا سکتی ہوں کہ اس قدر مہنگائی یے۔ میرے لیے سبزی خریدنا بھی مشکل ہے کہ میرے پاس اتنی رقم نہیں کہ سبزی خرید پاؤں۔

بعض لوگ بنکوں کی ایپس کا استعمال کرتے ہوئے انڈوں اور چینی کی خریداری کے لیے بھی الیکٹرانک پیمنٹ کا اہتمام کرتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے اشیاء فروخت کرنے والے زیادہ پیسے مانگتے ہیں۔

یاد رہے صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے میں بنکوں سے متعلق کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ حتیٰ کہ تعمیر نو سے متعلق بھی تفصیلات نہیں ہیں اور نہ ہی سلامتی سے متعلق۔

اسرائیلی فوج کے ساتھ کام کرنے والے اسرائیل کے سول ادارے کوگیٹ غزہ میں آنے والی امدادی اشیاء کو دیکھنے کا ذمہ دار ہے۔ تاہم اس نے اس بارے میں فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

بنکوں میں کرنسی کی کمی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں ابھی کوئی بندوبست نظر نہیں آتا جو اس صورتحال کو بہتر کر سکے۔

53 سالہ ایک فلسطینی تاجر نے کہا کہ ان کے پاس اب ازی طرح کے کرنسی نوٹ آرہے ہیں جو بار بار کے استعمال کے بعد اب قابل استعمال نہیں رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں