ٹوم براک (فائل فوٹو - فرانس پریس)

امریکی ایلچی کی جانب سے لبنان کو "مختصر" مہلت ... اسرائیل نئی جنگ کی تیاری میں

نیتن یاہو حکومت کا حزب اللہ کے دوبارہ مسلح ہونے کے معاملے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی جنوبی سرحد پر کشیدگی بڑھ گئی ہے اور حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ نئی جھڑپ کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوجی رہنماؤں کے ساتھ خفیہ اجلاسوں میں ان رپورٹوں اور انتباہات پر غور کیا ہے جنھیں اسرائیل نے "خطرناک" قرار دیا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق حزب اللہ جنوبی لبنان میں اپنی فوجی سرگرمیوں کو مضبوط کر رہی ہے، اسلحے میں اضافہ کر رہی ہے، شام سے قلیل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ اسمگل کر رہی ہے اور جنوبی لبنان میں عمارتوں کی مرمت کے ساتھ ساتھ دیہات میں مقامی عناصر کو تعینات کر رہی ہے۔

اسرائیلی ٹی وی "چینل 13" نے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فوج حزب اللہ کے ساتھ چند دنوں تک جاری رہنے والی ممکنہ جھڑپ کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ اسرائیل اپنی دھمکیوں میں اضافہ کر رہا ہے کہ وہ دوبارہ بم باری شروع کر سکتا ہے اور اس امید پر ہے کہ اس دباؤ سے لبنانی حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

اسی چینل کے مطابق امریکی ایلچی ٹوم براک نے لبنانی فوج کو اس ماہ نومبر کے آخر تک کی مہلت دی ہے تاکہ حزب اللہ کے ہتھیاروں کے مسئلے پر کوئی واضح پیش رفت سامنے آ سکے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

براک نے وضاحت کی کہ اگر یہ نہ ہوا تو اسرائیل کو حملہ کرنے کا حق حاصل ہو گا اور امریکہ اس اقدام کو سمجھنے کے قابل ہو گا۔

چینل نے مزید بتایا کہ امریکہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ نومبر کے اختتام تک لبنان پر حملے نہ کرے اور اس مدت کے بعد وہ اسرائیل کے کسی بھی فوجی اقدام کو تسلیم کرے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی اخبار "ہآرتز" نے مغربی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حزب اللہ نے جزوی طور پر اپنی فوجی سپلائی لائن دوبارہ قائم کر لی ہے اور اسے ایران سے عراق اور شام کے راستے اسلحے کی کھیپیں موصول ہو رہی ہیں۔

اسرائیلی انٹیلی جنس کے مطابق حزب اللہ کی سرگرمیوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے جو اپنی عسکری صلاحیتوں کی بحالی اور لبنان کے اندر ... بالخصوص دریائے لیطانی کے شمال میں، اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر حزب اللہ نے خود کو دوبارہ سے مسلح کرنے کا عمل جاری رکھا تو لبنان میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہے گی۔

اسرائیلی فضائیہ کے حملے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔ اگرچہ وہ ابھی مکمل جنگ کی سطح تک نہیں پہنچے، تاہم تل ابیب ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں