اسرائیل نے پیر کے روز ایک بار پھر جنوبی لبنان میں بمباری کر کے دو افراد کو ہلاک اور 7 کو زخمی کر دیا ہے۔
لبنانی وزارت صحت نے بھی ان ہلاکتوں کی تعداد اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے۔
لبنان کے ساتھ اسرائیل کے جنگ بندی معاہدے کی سالگرہ جوں جوں قریب آرہی ہے اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں شدت آرہی ہے۔
اسرائیلی ریاست کا کہنا ہے کہ اس کے حملوں کی وجہ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ٹھکانے ہیں جنہیں وہ نشانہ بنا رہے ہیں۔
لبنانی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ پیر کے روز ہونے والی دشمن کی بمباری کے نتیجے میں دوئیر ٹاؤن کو نشانہ بنایا گیا۔ جہاں ایک شخص ہلاک اور 7 زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے دوسرا حملہ آئیتا الشعاب میں کیا جہاں ایک اور شہری کی ہلاکت ہوئی۔ یہ دونوں حملے ایک ہی صوبے نباتیہ میں کیے گئے۔
لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ دوئیر میں ڈرون نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا تھا جو میزائل حملے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگئی۔
'اے ایف پی' کے فوٹوگرافر نے موقع پر موجود عینی شاہدوں اور آگ بجھانے والے ادارے کے کارکنوں سے بھی بات کی اور دیکھا کہ آگ میں جلنے والی گاڑی کے پاس 5 دیگر کاروں کو بھی نقصان ہوا۔
'اے ایف پی' کے فوٹوگرافر کے مطابق آس پاس کی دکانوں کے اس حملے کے نتیجے میں شیشے ٹوٹ گئے جنہیں کارکن ہٹا رہے تھے۔ ڈرون حملے سے مقامی شاپنگ سینٹر میں دکانداروں کا بھی کافی نقصان ہوا۔
27 نومبر 2024 کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی ریاست اپنے کمزور عرب پڑوسی لبنان کو مسلسل حملوں کی زد پر لیے ہوئے ہے۔
اتوار کے روز بھی اسرائیل کے وزیر دفاع کاٹز نے دھمکی دی ہے کہ وہ لبنان میں اپنے حملے تیز کر کے حزب اللہ کا خاتمہ کریں گے کیونکہ حزب اللہ آگ سے کھیل رہی ہے اور لبنان کے صدر بھی اپنے قدم آگ کی طرف بڑھا رہے ہیں۔
پچھلے سال ستمبر میں شدت پکڑنے والی اسرائیل اور حزب اللہ جنگ کے بعد حزب اللہ غیر معمولی طور پر کمزور ہوگئی ہے۔ اب اسرائیل اور امریکہ کا دباؤ ہے کہ حزب اللہ مکمل طور پر خود کو ہتھیاروں سے الگ کرے۔
اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہفتہ کے روز بھی 4 لبنانی ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ بھی صوبہ نباتیہ میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔ اس سے ایک روز قبل لبنانی صدر جوزف عون نے اسرائیل پر تنقید کی تھی کہ وہ ہماری بات چیت کی دعوت کا جواب بمباری کر کے دے رہا ہے۔