وڈیو ... 'جعیتا' کے قدرتی غار میں شادی کی تقریب پر لبنانی عوام چراغ پا

بلدیہ نے وزارتِ سیاحت کو با ضابطہ درخواست دیے بغیر ہی تقریب منعقد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان کے معروف جعیتا غار (Jeita Grotto) میں شادی کی تقریب منعقد کیے جانے پر سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی۔ یہ وہی قدرتی غار ہے جو ماضی میں دنیا کے سات عجائبات کی فہرست میں شامل ہونے کے لیے نامزد ہو چکا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل وڈیوز میں متعدد افراد کو وزارتِ سیاحت کے زیرِ انتظام اس غار کے اندر کشتیوں میں بیٹھے، موسیقی، رقص اور تالیوں کے ساتھ جشن مناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ تقریب غار کے تحفظ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی تھی۔ پہلی خلاف ورزی اونچی آواز میں موسیقی بجانے سے متعلق ہے جو غار کے حساس قدرتی ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ دوسری خلاف ورزی ہجوم اور مقررہ وقت سے زیادہ قیام سے متعلق ہے۔

لبنانی وزارتِ سیاحت نے اپنے با ضابطہ بیان میں وضاحت کی کہ غار کا انتظام عارضی طور پر بلدیہ جعیتا کو معاہدے کے تحت سونپا گیا تھا، جو کئی ماہ کی جبری بندش کے بعد ہوا۔ وزارت کے مطابق بلدیہ کے سربراہ نے زبانی طور پر سیاحت کی وزیر لورا الخازن لحود سے اس تقریب کی اجازت کی بات کی، لیکن تقریب کی نوعیت اور تفصیلات کے بارے میں کوئی تحریری درخواست جمع نہیں کرائی گئی ... حالانکہ قانوناً ہر سرگرمی کے لیے تحریری اجازت ضروری ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بلدیہ نے با ضابطہ اجازت نامے، معاہدوں اور مالی تفصیلات کے بغیر یہ تقریب منعقد کی۔

وزارتِ سیاحت نے اعلان کیا ہے کہ وہ بلدیہ جعیتا کو با ضابطہ انتباہی خط جاری کرے گی تاکہ خلاف ورزیوں کی وضاحت کی جا سکے۔ وزارت نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس تاریخی و سیاحتی مقام کے انتظام اور تحفظ کی مکمل ذمہ داری اٹھاتی ہے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے نقصان سے بچا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں