الشرع خلال لقائه الجالية السورية في نيويورك (سانا)
سلامتی کونسل نے شامی صدر اور وزیر داخلہ کا نام پابندیوں کی فہرست سے نکال دیا
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فیصلہ کیا کہ شامی صدر احمد الشرع اور وزیر داخلہ انس حسن خطاب کے نام عالمی پابندیوں کی فہرست سے خارج کر دیے جائیں۔
یہ فیصلہ امریکی قرارداد کے حق میں ہونے والی ووٹنگ کے بعد سامنے آیا، جسے سلامتی کونسل کے 14 ارکان نے منظور کیا، جبکہ چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ "احمد الشرع اور وزیر داخلہ انس حسن خطاب کے نام ان افراد اور گروہوں کی فہرست سے حذف کیے جاتے ہیں جو داعش اور القاعدہ سے منسلک قرار دیے گئے تھے"۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صدر احمد الشرع آئندہ ہفتے وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے ہیں۔
برازیل میں موسمیاتی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احمد الشرع نے کہا کہ شام تمام چیلنجوں پر قابو پانے اور تعمیرِ نو کے مرحلے کی جانب بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
انہوں نے کہا کہ شام کی حکومتی حکمتِ عملی ملک کی تعمیرِ نو اور بحالی کے عمل پر مرکوز ہے اور یہ کہ دمشق بین الاقوامی معاہدوں اور پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے پُرعزم ہے۔
شامی وزیر اطلاعات حمزہ مصطفیٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر اپنے پیغام میں کہاکہ "سلامتی کونسل نے صدرِ مملکت اور وزیر داخلہ کے نام پابندیوں کی فہرست سے نکالنے کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے"۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ شامی سفارت کاری کی کامیابیوں میں ایک نیا اضافہ ہے اور 14 ممالک نے اس قرارداد کی حمایت کی، جبکہ ایک نے ووٹ دینے سے گریز کیا۔
واضح رہے کہ امریکہ نے حال ہی میں ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں صدر احمد الشرع پر عائد پابندیاں ہٹانے کی سفارش کی گئی تھی۔
اسی کے تحت وزیر داخلہ انس خطاب کا نام بھی فہرست سے نکال دیا گیا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال مئی میں اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن شام پر عائد اپنی پالیسی میں بڑی تبدیلی لا رہا ہے اور کئی اقتصادی پابندیوں کو نرم کرنے پر غور کر رہا ہے۔
امریکہ گذشتہ کئی ماہ سے 15 رکنی سلامتی کونسل پر زور دے رہا ہے کہ وہ جنگ زدہ شام پر عائد دباؤ میں کمی لانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔