امریکہ نے شام کے دارالحکومت دمشق میں اپنے فوجی اڈے کے قیام کے لیے تیاری شروع کر دی۔ تاکہ شام اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی معاہدے کو ممکن بنایا جا سکے۔
چھ مختلف ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ ان دنوں شام اور اسرائیل کے درمیان بھی تعلقات کی بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ ان ذرائع نے یہ بات خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کو بتائی ہے۔
امریکی منصوبے کے مطابق یہ پہلی بار ہوگا کہ شام کے دارالحکومت دمشق میں امریکی فوج کی موجودگی ہوگی۔ جو شام اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے نئے دور کی علامت ہوگی۔ بشار الاسد رجیم کے خاتمے کے بعد امریکہ مسلسل ان امور پر کام کر رہا ہے۔
دمشق میں امریکی فوجی اڈے کی یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسی ماہ کے آخر میں شام کے صدر احمد الشرع امریکہ کے پہلے سرکاری دورے پر وائٹ ہاؤس جانے والے ہیں۔ غالباً وہ پہلے شامی صدر ہوں گے جنہیں وائٹ ہاؤس جانے کا موقع ملے گا۔
مبصرین کے خیال میں ان کا یہ دورہ امریکہ اور شام کے درمیان تعلقات کے ساتھ ساتھ شام اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے حوالے سے بھی انتہائی اہم ہوگا۔ جس سے خطے میں امریکی و اسرائیلی اثر و رسوخ بڑھنے کی راہ ہموار ہوگی۔
امکانی طور پر امریکی فوجی اڈے کو جنوبی شام کے لیے ایک 'گیٹ وے' کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ایک غیر فوجی علاقے میں ہوگا۔ جو اسرائیل اور شام کے درمیان طے پانے والا ہے۔ اس ڈیل کے لیے ٹرمپ انتظامیہ شام کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔
توقع ہے کہ صدر ٹرمپ سے احمد الشرع کی ملاقات پیر کے روز ہوگی جب وہ اپنے پہلے سرکاری دورے پر امریکہ میں ہوں گے۔
خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کے ساتھ چھ مختلف ذرائع نے اس بارے میں بات کی جو اس معاملے سے متعلق ہیں۔ ان میں دو مغربی حکام اور ایک شامی محکمہ دفاع سے تعلق رکھنے والا ذمہ دار بھی شامل ہے۔ ان ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اپنے اڈے کے ذریعے اسرائیل اور شام کے درمیان معاہدے کی مانیٹرنگ خود کرے جو معاہدہ متوقع ہے۔
تاہم امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون اور امریکی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر ابھی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ دوسری جانب شام کے صدر کے دفتر اور وزارت دفاع نے بھی اس سلسلے میں سوال کا جواب نہیں دیا ہے۔ شامی حکومت کو یہ سوالات وزارت اطلاعات کے ذریعے بھیجے گئے تھے۔
امریکی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل اس امر کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ امریکہ شام میں داعش کے خلاف اپنی لڑائی کو کیسے زیادہ مؤثر بنا سکتا ہے۔
ان حکام نے 'روئٹرز' سے درخواست کی کہ اپنی رپورٹ میں ممکنہ فوجی اڈے کے لیے حاصل کی جانے والی جگہ کے نام کی نشاندہی نہ کرے۔ 'روئٹرز' نے امریکی حکام سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس علاقے کی اپنی رپورٹ میں باضابطہ نشاندہی نہیں کرے گا۔
مغربی فوجی حکام کے مطابق پینٹاگون نے اس سلسلے میں اپنے منصوبے کو تیز کر رکھا ہے۔ پچھلے دو ماہ میں اس سلسلے میں کئی مشن شام جا چکے ہیں۔ ان مشنز کا مقصد یہ ہے کہ فوجی اڈے پر بننے والے طویل رن وے کو جلد سے جلد قابل استعمال بنایا جائے۔
شامی فوج سے متعلق دو ذرائع کے مطابق دو طرفہ تکنیکی بات چیت میں اس امر پر توجہ ہے کہ فوجی اڈے امریکہ کی لاجسٹکس کی ضرورتوں، نگرانی کے امور اور جہازوں کی ری فیولنگ کے علاوہ انسانی بنیادوں پر امداد کی کوششوں کے لیے کام آئے گا۔ جبکہ شام کی خودمختاری کو متاثر کرنے والی کوئی چیز اس میں شامل نہیں ہوگی۔
شام کے ایک دفاعی ذمہ دار نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے اپنے اس ملٹری بیس کے لیے سی اے ون 30 ٹرانسپورٹ طیارے رن وے پر اتارے ہیں۔ تاکہ رن وے کا جائزہ لیا جائے۔
فوجی اڈے کی نگرانی پر مامور سیکیورٹی گارڈ نے 'روئٹرز' کو بتایا کہ اڈے پر امریکی جہازوں کی لینڈنگ آزمائشی ضرورتوں کے تحت ہو رہی ہے تاکہ رن وے کا جائزہ لیا جا سکے اور اسے حتمی استعمال کے لیے مثبت قررا دیا جا سکے۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ اس اڈے کے لیے اپنی فوج کو بھی بھیجا گا یا نہیں۔
امریکہ و شام کی مشترکہ موجودگی
امریکہ کے شام کے لیے منصوبوں سے اندازہ ہو رہا ہے کہ امریکہ علاقے میں اپنی مانیٹرنگ اور موجودگی کو بڑھا رہا ہے اور اس سلسلے میں معاہدے کر رہا ہے۔
جبکہ اس سے پہلے بھی امریکہ کے فوجی شام کے شمال مشرقی حصے میں موجود ہیں۔ تاکہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کردوں کی حمایت و مدد کو جاری رکھ سکے۔
پینٹاگون کے مطابق اس سلسلے میں ایک ہزار کے قریب فوجی شام کے شمال مشرق میں موجود ہیں۔ دوسری جانب احمد الشرع کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کی موجودگی کے لیے لازم ہے کہ نئی شامی ریاست کا اتفاق حاصل کیا جا سکے۔
شامی حکام کے مطابق شام جلد ہی داعش کے خلاف امریکہ اور بین الاقوامی فورسز کا حصہ بننے والا ہے۔
شام میں امریکی اڈے کے قیام سے متعلق بات چیت سے جڑے ہوئے ذریعے نے کہا یہ معاملہ سب سے پہلے سینٹ کام کے چیف ایڈمرل بریڈ کوپر کی شام آمد کے موقع پر زیر بحث آیا۔ یاد رہے یہ دورہ 12 ستمبر کو ہوا تھا۔
اس موقع پر سینٹ کام کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ سینٹ کام سربراہ اور شام کے لیے امریکی ایلچی تھامس بیرک نے احمد الشرع سے ملاقات کی اور ان کا شکریہ ادا کیا کہ وہ داعش کے خلاف شام میں امریکہ کی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جو صدر ٹرمپ کے ویژن کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے۔ تاکہ مشرق وسطیٰ میں استحکام اور خوشحالی ہو۔
امریکہ شام اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی معاہدے کے لیے بھی کئی ماہ سے کوشش کر رہا ہے۔ توقع تھی کہ ستمبر میں ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس معاہدے کا اعلان ہوگا۔ تاہم آخری لمحوں پر وہ مؤخر ہوگیا۔
شام کے ذرائع کا کہنا یے کہ امریکہ چاہتا کہ شام اس سال کے اختتام تک اسرائیل کے ساتھ معاہدے کو یقینی بنائے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ یہ اتنا جلدی ہو کہ شامی صدر کے امریکہ پہنچنے سے پہلے ہی ہو جائے۔
-
ترکیہ میں فوجی سکولوں میں شامی طلبہ کی شمولیت پر ایک نیا تنازعہ
ترکیہ میں فوجی اداروں کے ایک فیصلے نے ملک بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر ...
بين الاقوامى -
شام : قنیطرہ کے دیہی علاقے میں اسرائیلی فوجی در اندازی ، کئی مقامی مزدور گرفتار
دو ٹینکوں اور چار فوجی گاڑیوں پر مشتمل ایک اسرائیلی دستے نے جباتا الخشب قصبے میں ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے نہایت قریب تھے مگر اس نے ذمے داری پوری نہ کی: شامی صدر کے مشیر
زیدان نے واضح کیا کہ 'شامی سفارت کاری اسرائیلی کشیدگی کے مقابلے میں حکمت عملی کے ...
مشرق وسطی