اسرائیل کے ساتھ معاہدے کے نہایت قریب تھے مگر اس نے ذمے داری پوری نہ کی: شامی صدر کے مشیر

زیدان نے واضح کیا کہ 'شامی سفارت کاری اسرائیلی کشیدگی کے مقابلے میں حکمت عملی کے تحت صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام کے صدر کے مشیر برائے ذرائع ابلاغ احمد موفق زیدان نے تصدیق کی ہے کہ شامی فریق اسرائیل کے ساتھ ایک سیکیورٹی معاہدے کے قریب تھا، لیکن اسرائیل نے اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کیں۔

زیدان نے زور دیا کہ دمشق 1974 کے اسرائیل کے ساتھ طے شدہ جنگ بندی کے معاہدے پر قائم ہے۔

انھوں نے العربیہ/الحدث سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ "شام کی کی سفارت کاری اسرائیلی کشیدگی کے سامنے حکمت عملی کے تحت صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے۔"

زیدان کے مطابق شامی عوام کا رویہ امریکہ کے ساتھ مثبت ہے، خاص طور پر دمشق پر عائد پابندیاں ہٹانے کی کوششوں کے بعد۔
انھوں نے سعودی عرب کے موقف کی بھی تعریف کی اور کہا کہ سعودی تعاون نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے میں مدد کی ہے۔

گزشتہ ہفتے ایک اسرائیلی اہل کار نے العربیہ/الحدث کو بتایا تھا کہ اسرائیل اور شام کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور وہ انجام کے قریب ہیں۔ اہل کار نے واضح کیا تھا کہ اسرائیل نے امریکہ اور شام کو اطلاع دی ہے کہ وہ شام میں علیحدگی کی تحریکوں کی حمایت نہیں کرتا۔

اہل کار نے کہا کہ "شام اور اسرائیل کے درمیان تیار ہونے والا معاہدہ 1974 کے معاہدے کی طرز پر ہے تاہم کچھ معمولی ترامیم کے ساتھ .... مزید یہ کہ کچھ علاقوں میں اسرائیلی، شامی اور امریکی مشترکہ موجودگی شامل ہے، جیسے جنوبی شام میں جبل الشیخ وغیرہ"۔

اہل کار نے مزید بتایا کہ سرحدی صورت حال پر نظر رکھنے کے لیے ایک مشترکہ سیکیورٹی کمیٹی بھی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے جس میں شام، امریکہ اور اسرائیل شامل ہوں گے۔

واضح رہے کہ ستمبر 2025 کے وسط میں چار با خبر ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل اور شام کے درمیان سیکیورٹی معاہدے کی کوششیں آخری لمحات میں ناکام ہو گئیں، کیونکہ اسرائیل نے السویداء کے لیے ایک راستہ کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ بات اُس وقت روئٹرز نیوز ایجنسی نے بتائی۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ میں شام اور اسرائیل نے باکو، پیرس اور لندن میں کئی مذاکراتی اجلاس منعقد کیے جن میں امریکہ ثالثی کر رہا تھا۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ایک سیکیورٹی معاہدے کی بنیاد رکھنا ہے جو سرحدی کشیدگی کم کرے۔

بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد، اسرائیل نے شام کے داخلی علاقوں میں کئی فوجی اہداف پر حملے کیے۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی علاقے میں داخل ہو کر 1974 کی جنگ بندی کے تحت قائم کردہ غیر فوجی علاقے میں توسیع کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں