اسرائیل نے لبنان پر تیزی سے تھکانے والی جنگ مسلط کررکھی ہے، فوج نکالی جائے:نواف سلام
لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اسرائیل پر لبنان کے خلاف "تھکانے والی جنگ" شروع کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے واضح کیا کہ لبنان میں چند " مقبوضہ مقامات" پر اسرائیلی فوج کی موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں۔
گذشتہ نومبر میں امریکی ثالثی کے ذریعے لبنان کے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھالیکن اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان میں کچھ مقامات پر قابض ہے اور لبنان کے مشرق اور جنوب میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
سلام نے اپنے بیان میں زور دیا کہ "سب کو لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل کرنا چاہیے"۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک "خودمختاری کی بحالی اور ہتھیاروں کو محدود کرنے" کے عزم پر قائم ہے۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
ایک دوسری پیش رفت میں لبنانی حکومت نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ وزیر اعظم سلام نے یورپی یونین کی خارجہ امور اور سکیورٹی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس سے ملاقات کی۔ ملا قات میں انہیں لبنانی فوج کی فوری مدد کی ضرورت سے آگاہ کیا تاکہ فوج اپنے فرائض کو مکمل کر سکے۔
لبنان کے وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ نواف سلام نے ملاقات کے دوران زور دیا کہ "یورپی یونین کا سفارتی کردار لبنان کی مدد اور اسرائیل پر دباؤ ڈال کر اس کی جارحیت روکنے اور قبضے میں لیے گئےمقامات سے انخلاء کروانے میں انتہائی اہم ہے"۔