لبنانی فوج میں شمولیت کے لیے حزب اللہ کی زیرِ زمین سرگرمیاں تیز: اسرائیلی خفیہ ادارے

اسرائیلی فوج کی جبل الشیخ اور شبعا فارمز کے علاقے میں مشقیں جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی نیوز ویب گاہ ''ولا '' کے مطابق اسرائیلی فوج لبنان کی سرحد پر ممکنہ کشیدگی کو بڑھاوا دینے کے لیے بھرپور تیاریوں میں مصروف ہے، جبکہ حزب اللہ زیادہ سے زیادہ ہتھیار جمع کرنے کی دوڑ میں سبقت لے جانے کے لیے کوشاں دکھائی دیتی ہے۔

انٹلیجنس معلومات کے حوالے سے بتایا گیا کہ حزب اللہ نے اپنے جنگجو لبنان کی فوج میں شامل کرانا شروع کر رکھا ہے۔ وہ میزائل منتقلی کے ساتھ ساتھ اپنی کچھ سرگرمیاں زیرِ زمین کر رہا ہے۔

اسرائیلی انٹیلیجنس اندازوں کے مطابق لبنان کی سرحد اور یہودی آبادکاری کے علاقوں میں فوجی نقل وحرکت بڑھائی گئی ہیں تاکہ حزب اللہ کے ردِعمل کی جانچ کی جا سکے۔

ان اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشیدگی کی مدت حزب اللہ کے ممکنہ ردِعمل کے حجم سے جڑی ہوئی ہے۔ اسرائیلی فوج کی خفیہ شاخ کے اہلکاروں کے مطابق بیروت حکومت نے حزب اللہ کو اس کے ہتھیاروں سے محروم کرنے کا موقع ضائع کر دیا۔

ان اہلکاروں نے یہ بھی بتایا کہ ایران نے مختلف ذرائع سے حزب اللہ کی مدد کے لیے سیکڑوں ملین ڈالر منتقل کیے ہیں۔ اسی دوران ممکنہ بڑی کشیدگی کو قابو میں رکھنے کے لیے بیروت میں عرب اور بین الاقوامی مندوبین کا آنا جانا جاری ہے۔

اس سلسلے میں فرانس کے صدارتی نمائندے جان ایو لودریان کل لبنانی دارالحکومت پہنچیں گے۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کے وفد نے لبنان کا دورہ مکمل کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ سلامتی کونسل لبنان کے استحکام اور خودمختاری کی حمایت کرتی ہے۔

وفد نے جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری اور لبنان کی مدد کے لیے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا۔ اقوام متحدہ کے وفد کے ترجمان سلووینیا کے سفیر سیموئل جبوجارڈ نے کہا کہ سلامتی کونسل لبنان میں اقتصادی اور ادارتی اصلاحات کی حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے یو این کی یونيفل امن فوج کی سکیورٹی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ان پر حملے نہیں کیے جانے چاہیے۔ ساتھ ہی لبنان اور لبنان کی فوج کی بین الاقوامی مدد بشمول دریائے لیطانی کے جنوب میں فوجی پھیلاؤ کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کونسل لبنان کی حکومت کے اس فیصلے کی بھی حمایت کرتی ہے کہ ہتھیار صرف ریاست کے ہاتھ میں ہوں۔

لبنانی وزیر خارجہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ حزب اللہ کے ہتھیاروں کی منتقلی ایران کے فیصلے کے تحت ہوتی ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ فوجی مشق صبح شروع ہوں گی، جس دوران علاقے میں فوجی اہلکاروں اور مشینری کی فعال حرکت دیکھنے کو ملے گی اور تربیتی سرگرمیوں کے دوران دھماکوں کی آواز بھی سنائی دے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں