لبنانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوب لبنان کے علاقے الطیری - بنت جبیل میں اقوام متحدہ کی عارضی فورس "یونیفل" پر حملے میں ملوث چھ افراد کو گرفتار کر لیا، جس کے نتیجے میں یونیفل کی ایک گاڑی کو نقصان پہنچا، لیکن اہلکاروں کے درمیان کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
فوج نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ یونیفل پر کسی بھی حملے کی سنگینی سے آگاہ ہیں اور ملوث افراد کے خلاف کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔
بیان میں فوج نے جنوبی لیتانی علاقے میں یونیفل کے بنیادی کردار کو اجاگر کیا، یونیفل اور فوج کے درمیان قریبی رابطے اور تعاون کو سراہا اور خطے میں استحکام کی بحالی میں اس کے موثر کردار کو تسلیم کیا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ گرفتار افراد کی تفتیش متعلقہ عدالتی نگرانی میں شروع کر دی گئی ہے۔
گذشتہ روز یونیفل کی فورسز نے اپنی آپریشنل حدود میں اسرائیلی حملوں کی نشاندہی کی تھی اور ساتھ ہی مسلح افراد کی جانب سے بنت جبیل کے قریب یونفیل کی ایک گشتی گاڑی پر فائرنگ بھی ہوئی۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے ایسے وقت ہوئے جب لبنان کی مسلح افواج جنوب لبنان میں غیر قانونی ہتھیار اور بنیادی ڈھانچے پر کنٹرول کے لیے آپریشن کر رہی تھیں۔ یونیفل نے ان اقدامات کو "سلامتی کونسل کے قرارداد 1701 کی واضح خلاف ورزی" قرار دیا اور اسرائیلی فوج کو دستیاب رابطے اور ہم آہنگی کے طریقہ کار سے فائدہ اٹھانے کی تنبیہ کی۔ اس کے ساتھ ساتھ لبنان کے حکام کو کسی بھی ردعمل سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ صورت حال مزید بگڑ نہ جائے۔
یاد رہے کہ پچھلے سال بھی جنوب لبنان میں یہ اقوام متحدہ کی فورس اسرائیلی حملوں کی زد میں آ چکی ہے۔
سلامتی کونسل نے اس فورس کے کام کی مدت کو اگلے سال کے آخر تک (سنہ 2026ء) بڑھایا اور لبنان کی حکومت نے بھی فوج کی معاونت کے لیے یونیفل کی موجودگی کو ضروری قرار دیا۔