"سانا" نیوز ایجنسی سے لی گئی تصویر

وڈیو : شامی صدر کا سعودی عرب کی جانب سے پیش کیے گئے تحفے کا انکشاف

احمد الشرع اپنے اس فوجی لباس میں نمودار ہوئے جو انھوں نے عسکری کارروائیوں کی انتظامی قیادت کے دوران پہن رکھا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر احمد الشرع نے بتایا ہے کہ انھیں سعودی عرب کی جانب سے ایک خصوصی تحفہ موصول ہوا ہے جو انھوں نے دمشق کی جامع مسجد اموی میں نمائش کے لیے پیش کیا۔ یہ اعلان بشار الاسد کے نظام کے خاتمے کو ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر کیا گیا۔

الشرع نے کہا "ہمارے سعودی عرب کے پہلے سرکاری دورے کے بعد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ہمیں کعبے کے غلاف کا ایک ٹکڑا تحفے میں عطا کیا .… اور ہم نے چاہا کہ یہ متبرک ٹکڑا جامع مسجد اموی میں رکھا جائے۔”

آج صبح الشرع جامع مسجد اموی پہنچے، جہاں نمازیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پورے ملک میں لوگ مختلف مساجد کا رخ کر رہے تھے تاکہ “فجرِ آزادیِ شام” اور بشار حکومت کے سقوط کی سالگرہ کی تقریبات میں شریک ہو سکیں۔

الشرع اس موقع پر وہی فوجی لباس پہنے ہوئے دکھائی دیے جو وہ اس وقت پہنتے تھے جب وہ فوجی آپریشنز کی کمان سنبھال رہے تھے۔ یہ لباس اس دن کی یاد اور اس کی علامتی اہمیت کے باعث زیب تن کیا گیا۔

مسجد اموی کے منبر سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے یقین دہانی کرائی کہ وہ شمال سے جنوب تک پورے شام کے تحفظ اور استحکام کے لیے اپنا مشن جاری رکھیں گے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں