امریکی ایوانِ نمائندگان : ٹرمپ کی پالیسیوں کے رجحانات کے متضاد دفاعی مسودہ قانون منظور

اس میں ایسے نکات شامل ہیں جو یورپ میں امریکی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کو 2026 کے لیے دفاعی حکمت عملی کا مسودہ قانون منظور کیا، جس میں کئی ایسے نکات شامل ہیں جو یورپ میں امریکی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں …اور یہ اقدام وائٹ ہاؤس کے حالیہ رجحانات کے متضاد ہے۔

یہ قانون، جسےNational Defense Authorization Act کہا جاتا ہے، ہر سال کانگریس کے دونوں ایوانوں کی متفقہ یا نسبتی منظوری سے منظور کیا جاتا ہے۔ قانون میں اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ اگلے سال امریکہ کو دفاعی طور پر کن شعبوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

سال2026 کے مسودے کی طوالت تین ہزار سے زائد صفحات ہے اور اس میں تجویز کیا گیا مجموعی بجٹ تقریباً 900 ارب ڈالر ہے، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں پانچ ارب ڈالر زیادہ ہے۔ ایوانِ نمائندگان نے مسودہ قانون 312 ووٹوں کے ساتھ مںظور کیا جب کہ اس کی مخالفت میں 112 ووٹ آئے۔ اب یہ مسودہ سینیٹ کو بھیجا جائے گا، جہاں توقع ہے کہ سال کے اختتام سے قبل اسے منظوری مل جائے گی۔

کانگریس کے تیار کردہ اس مسودہ قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ اپنی فوجی موجودگی یورپی علاقوں میں جاری رکھے گا اور پینٹاگان کو یہ اجازت نہیں کہ وہ بغیر کانگریس کو وضاحت دیے یورپ میں تعینات امریکی فوج کی تعداد 76 ہزار سے کم کر دے۔

یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی کے چند دن بعد سامنے آیا، جس میں امریکہ کی توجہ اپنے قریبی علاقے کی جانب منتقل کرنے کی تجویز دی گئی تھی اور جس نے یورپی اتحاد کی کمزوری کا خدشہ پیدا کیا۔ اس حکمت عملی پر یورپی سطح پر سخت تنقید بھی ہوئی ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں