غزہ میں حماس کے مخالف دھڑوں میں "بھرتیاں" جاری ... امریکہ کا ان گروہوں سے لا تعلقی کااعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ سمجھوتے کے دوسرے مرحلے تک پہنچنے کے طریقے تلاش کرنے کے سلسلے میں، اسرائیل کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں کام کرنے والے حماس مخالف مسلح گروہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ حماس تنظیم کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے۔

ان گروہوں نے یہ بھی بتایا کہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی کے بعد سے ان کی صفوں میں بھرتی ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ غزہ کی پٹی کے مستقبل میں ایک مستقل کردار کے خواہاں ہیں۔ یہ تفصیلات آج بدھ کے روز روئٹرز نیوز ایجنسی نے بتائی۔

مصر کی تین سکیورٹی اور فوجی شخصیات نے بتایا کہ اسرائیل کے حمایت یافتہ یہ گروہ جنگ بندی کے بعد سے زیادہ سرگرم ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق اب ان گروہوں کے جنگجوؤں کی تعداد تقریباً ایک ہزار تک پہنچ چکی ہے، ان میں 400 افراد نے جنگ بندی کے بعد شمولیت اختیار کی۔

خان یونس کے علاقے میں موجود حماس مخالف ایک دھڑے کے سربراہ حسام الاستال نے کہا کہ "دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی"۔ انہوں نے مزید کہا "ہمارا منصوبہ، نیا غزہ ... آگے بڑھے گا۔"

الاستال نے اسرائیل سے کسی فوجی مدد کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، لیکن یہ ضرور مانا کہ خوراک اور دوسری ضروریات کی فراہمی کے لیے ان کے اسرائیل سے رابطے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد ان کے گروہ میں نئی بھرتیاں ہوئیں اور اب اس میں کئی سو افراد شامل ہیں جن میں جنگجو اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔

اس کے برعکس، یاسر ابو شباب کی قیادت میں کام کرنے والی "القوات الشعبیہ" کے قریب ایک ذریعے نے بتایا کہ اس گروہ میں بھی وسعت آئی ہے، اگرچہ جنگجوؤں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

امریکی حکام کی جانب سے کہا گیا کہ امریکہ کا ان حماس مخالف گروہوں کے ساتھ کوئی با ضابطہ رابطہ نہیں۔ ایک امریکی اہل کار نے کہا "ہم کوئی فنڈنگ یا مدد فراہم نہیں کرتے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ غزہ میں "کامیاب یا ناکام فریقوں کا انتخاب نہیں کرے گا"، لیکن ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ "غزہ کے مستقبل میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہو گا"۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی حکمرانی کا فیصلہ خود فلسطینی کریں گے۔

ادھر فتح تحریک کے ترجمان نے بھی اس بات پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے حمایت یافتہ کسی بھی مسلح گروہ کو قبول نہیں کرتے، اور ان کا کہنا تھا کہ یہ گروہ "فلسطینی عوام اور ان کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں رکھتے"۔

اگرچہ یہ مسلح گروہ ابھی تعداد میں کم اور مقامی نوعیت کے ہیں، لیکن ان کے منظرعام پر آنے سے حماس پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جون میں یہ اعتراف کیا تھا کہ اسرائیل نے حماس مخالف گروہوں کی مدد کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے "قبائلی گروہوں کو فعال کیا ہے"، تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

گذشتہ ہفتے رفح کے علاقے میں حماس مخالف فورسز کے قیام میں مرکزی کردار سمجھے جانے والے ابو شباب ہلاک ہو گئے۔ ان کے گروہ "القوات الشعبیہ" نے کہا کہ وہ ایک خاندانی تنازع کی ثالثی کے دوران مارے گئے، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کس نے قتل کیا۔ ان کی موت کے بعد ان کے نائب غسان الدہینی نے قیادت سنبھال لی اور اسی پالیسی کے تسلسل کا اعلان کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں