امریکہ سیاحوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پانچ سالہ معلومات کی جانچ شروع کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اگر آپ سیاحت یا کسی اور مقصد کے لیے امریکہ جانا چاہتے ہیں تو اب ضروری ہو گیا ہے کہ آپ گذشتہ پانچ برسوں میں اپنے سوشل میڈیا رجحان کے بارے میں پوری طرح محتاط ہوں۔

امریکی حکام نے سنجیدگی سے یہ تجویز زیرِ غور لانا شروع کر دی ہے کہ ملک میں داخلے سے قبل غیر ملکی مسافروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا جائزہ لیا جائے۔ یہ منصوبہ امریکی بارڈر اتھارٹی کے نئے اقدامات کا حصہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) کی جانب سے پیش کی گئی تجویز میں کہا گیا ہے کہ خواہ مسافر کو ویزے کی ضرورت ہو یا نہیں، ہر آنے والے شخص سے سوشل میڈیا کے ڈیٹا کا تقاضا کیا جائے گا۔

امریکی فیڈرل رجسٹر میں منگل کے روز شائع ہونے والے نوٹس کے مطابق غیر ملکی سیاحوں کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پانچ برس پرانی تمام تفصیلات فراہم کرنا لازمی ہوگا۔ یہ معلومات دیگر ذاتی تفصیلات کے ساتھ مانگی جائیں گی، جیسے کہ گذشتہ پانچ برسوں میں استعمال کیے گئے ای میل پتے، فون نمبر، اور خاندان کے افراد کے نام، پتے، فون نمبر اور تاریخِ پیدائش وغیرہ۔

کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ مستقبل میں ESTA کی درخواستوں پر ایک ذاتی تصویر (سیلفی) جمع کرانا بھی لازم ہو سکتا ہے، اور ساتھ ہی چہرے، فنگر پرنٹس، ڈی این اے اور آنکھ کی پتلی کا اسکین جیسے بائیومیٹرک ڈیٹا کا حصول بھی مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے "اسکائی نیوز" کے مطابق ان مجوزہ تبدیلیوں پر عوامی مشاورت 60 روز تک کھلی رہے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب متعدد رپورٹس میں یہ بتایا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد کئی مسافروں کو ان کے سوشل میڈیا پوسٹس یا پیغامات کی بنیاد پر امریکہ میں داخلے سے روک دیا گیا۔

اس کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میں تقریباً 19 ممالک پر سفری پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ گذشتہ جمعرات کو وزیرِ داخلی سلامتی کرسٹی نوئم نے اعلان کیا کہ ان ممالک کی تعداد جلد 30 سے تجاوز کر سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں