ڈیٹوکس ڈائٹ کے فائدے اور نقصانات: ایک جامع گائیڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈیٹوکس ڈائٹس دراصل قلیل مدت کا غذائی نظام ہوتاہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ جسم سے زہریلے مادّے خارج کرنے، وزن کم کرنے اور مجموعی صحت بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

ان کا بنیادی تصور یہ ہے کہ انسان روزانہ ہوا، پانی اور خوراک کے ذریعے مختلف زہریلے عناصر کے سامنے آتا ہے، جیسے آلودگی، بھاری دھاتیں، کیمیائی مادّے اور زرعی ادویات، جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ جسم کے ٹشوز، چربی کے خلیات اور ہڈیوں میں جمع ہو کر صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

ان غذائی نظاموں کے حامی زہریلے مادّوں کے جمع ہونے کو وزن بڑھنے اور بعض صحت کے مسائل جیسے سر درد، تھکن اور پیٹ پھولنے سے جوڑتے ہیں۔

ان کے مطابق ڈیٹوکس ڈائٹس کا مقصد جسم سے ان زہریلے مادّوں کو خارج کرنا اور جسم کو دوبارہ متوازن بنانا ہے، ساتھ ہی نظامِ ہاضمہ کو آرام دینا اور اسے بہتر انداز میں کام کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے، جیسا کہ ویب سائٹ WebMD میں بتایا گیا ہے۔

عام طور پر یہ غذائی نظام کھانے میں سخت پابندی پر مبنی ہوتے ہیں، جیسے روزہ رکھنا یا صرف جوس پینا، اس کے ساتھ غذائی سپلیمنٹس اور جڑی بوٹیوں کا استعمال کیا جاتا ہے، بعض اوقات آنتوں کی صفائی (کولون کلینزنگ) بھی شامل ہوتی ہے۔

اگرچہ بہت سے لوگ ڈیٹوکس ڈائٹ پر عمل کرنے کے بعد بہتری کا احساس اور وزن میں کمی کی بات کرتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اس کی اصل وجہ زیادہ تر غیر صحت بخش غذا سے وقتی پرہیز اور کیلوریز میں کمی ہوتی ہے، نہ کہ واقعی جسم سے زہریلے مادّوں کا اخراج۔

دستیاب سائنسی شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ڈیٹوکس ڈائٹس کی جسم سے زہریلے مادّوں کو خارج کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔

ماہرین اس امر پر زور دیتے ہیں کہ جگر اور گردے یہ کام قدرتی طور پر خود انجام دیتے ہیں اور اس کے لیے کسی خاص غذائی نظام کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ڈیٹوکس ڈائٹس کی اقسام

ڈیٹوکس کے غذائی نظام مختلف اقسام میں پائے جاتے ہیں، جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:

روزہ (Fasting):

ایک مخصوص مدت کے لیے کھانے سے پرہیز کیا جاتا ہے تاکہ جسم کے اعضاء کو آرام ملے اور انہیں صحت یاب ہونے کا موقع ملے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ روزہ زہریلے مادّوں کے اخراج اور غذائی اجزا کے بہتر جذب میں مدد دیتا ہے۔

محدود غذائی نظام:

اس نظام میں بعض غذائی گروپس کو خارج کر دیا جاتا ہے، جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ زہریلے مادّے جسم میں داخل کرتے ہیں یا ہاضمہ سست کرتے ہیں، جیسے تیار شدہ غذائیں، سرخ گوشت، دودھ سے بنی اشیا اور اناج۔ اس کے بجائے نامیاتی پھل، سبزیاں اور صحت مند چکنائیاں استعمال کی جاتی ہیں۔

جوس کلینز (Juice Cleanse):

چند دنوں تک ٹھوس غذا ترک کر کے صرف پھلوں اور سبزیوں کے جوس استعمال کیے جاتے ہیں، اس دعوے کے ساتھ کہ اس سے نظامِ ہاضمہ کو آرام ملتا ہے اور جسم کو وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم ہوتے ہیں۔

مائع صفائی (Liquid Cleanse):

یہ جوس کلینز سے ملتا جلتا ہے، لیکن اس میں دیگر مشروبات بھی شامل ہوتے ہیں، جیسے یخنی، اسموُدی یا سوپ۔ یہ اکثر تیار شدہ پروگرامز یا مخصوص نسخوں کی صورت میں دستیاب ہوتا ہے۔

کچی غذا پر مبنی نظام (Raw Food Diet):

اس میں صرف بغیر پکی ہوئی غذا استعمال کی جاتی ہے، اس خیال کے تحت کہ پکانے سے غذائی اجزا ضائع ہو جاتے ہیں اور نقصان دہ مادّے پیدا ہوتے ہیں۔

سپلیمنٹس اور جڑی بوٹیاں:

کچھ جڑی بوٹیوں اور غذائی سپلیمنٹس کو جگر اور گردوں کی صفائی میں مددگار قرار دیا جاتا ہے، جیسے سبز چائے، ملک تھسل، ہلدی، ڈینڈیلین کی جڑیں اور ایکٹیویٹڈ چارکول۔

اجازت یافتہ اور ممنوع غذائیں:

عام طور پر اجازت یافتہ:

سبزیاں

پھل

جڑی بوٹیوں کی چائے

تازہ جوس

عام طور پر ممنوع:

ریفائنڈ چینی

مصنوعی مٹھاس

کیفین والے مشروبات

الکحل

گوشت اور انڈےدودھ اور دودھ سے بنی اشیا

گلوٹین

ڈیٹاکس ڈائیٹ کیسے شروع کریں؟

ڈیٹاکس ڈائیٹ پر عمل کرنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

منتخب شدہ نظام اور اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں اچھی تحقیق کرنا۔

ڈاکٹر سے مشورہ کرنا، خاص طور پر اگر آپ کو دائمی بیماریاں، غذائی خرابی یا دورانِ حمل و شیریں ہیں۔
لاگت کا حساب لگانا، کیونکہ بعض پروگرام مہنگے ہو سکتے ہیں۔

مناسب خریداری کی فہرست تیار کرنا۔

کھانے اور مشروبات کی پیشگی منصوبہ بندی۔

روزمرہ سرگرمیوں کو مدنظر رکھنا، کیونکہ کیلوریز کم کرنے سے تھکن اور توجہ میں کمی ہو سکتی ہے

ڈیٹاکس ڈائیٹ کے فوائد اور نقصانات

ممکنہ فوائد:

پھلوں اور سبزیوں کی زیادہ مقدار کا استعمال ۔

ممکنہ غذائی حساسیت کی دریافت ۔

غیر صحت مند غذائی عادات کو توڑنا۔

وقتی طور پر عمومی بہتری اور تازگی کا احساس۔

ممکنہ نقصانات / خطرات:

ضروری غذائی اجزاء کی کمی ۔

تھکن، چکر آنا اور بلڈ شوگر مں کمی۔

ہاضمے کے مسائل ۔

غیر محفوظ یا غیر رجسٹرڈ مصنوعات کا استعمال۔

ذیابیطس، غذائی خرابیوں اور گردے کے امراض کے مریضوں کے لیے خاص خطرہ

ماہر کی رائے:

پروفیسر فرینک سیکس ماہر امراض قلب اور پروفیسر یونیورسٹی آف ہارورڈ کا کہنا ہے کہ ڈیٹاکس ڈائیٹس صحت مند یا مؤثر طریقہ نہیں ہیں، جسم سے زہریلے مادے خارج کرنے کے لیے، کیونکہ جسم قدرتی طور پر ان سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔

ان کے مطابق واحد مفید ڈائیٹ وہ ہے جو ''صاف خوراک'' (Clean Eating) پر مرکوز ہو، یعنی پروسیس شدہ کھانے، چینی اور زیادہ چکنائی والے کھانوں کو کم کرنا اور پھل، سبزیاں اور مکمل غذائیں زیادہ استعمال کرنا۔جسم کو زہریلے مادے خارج کرنے کے لیے ڈیٹاکس کی ضرورت نہیں، مگر بعض پروگرام غذائی عادات بہتر بنانے کے لیے آغاز کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ کچھ افراد کے لیے خطرناک بھی ہو سکتے ہیں، اس لیے شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں