مصر میں غیر قانونی حج مافیا کے خلاف کارروائی 44 کمپنیاں بند
مصر کی وزارتِ داخلہ کے اداروں نے ان کمپنیوں کے ایک وسیع نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے ،جو حج اور عمرہ کے سفر کا جھانسہ دے کر شہریوں سے دھوکہ دہی کر رہی تھیں۔یہ کارروائیاں مصری حکومت کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد مذہبی سیاحت کے شعبے کو ان بروکروں اور فرضی اداروں سے پاک کرنا ہے، جو شہریوں کی عبادات کی خواہش سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور انہیں مصری و سعودی ضوابط کی خلاف ورزی پر مجبور کرتے ہیں۔
محکمۂ امنِ عامہ اور سیاحت و آثارِ قدیمہ پولیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ مختلف صوبوں میں کام کرنے والی 25 غیر لائسنس یافتہ کمپنیوں نے جعلی سیاحتی اور مذہبی پروگراموں کی تشہیر کر کے شہریوں سے رقم ہتھیا لی۔
تحقیقات کے مطابق ان کمپنیوں نے متاثرین کو یہ باور کرایا کہ وہ باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ہیں ،اپنی سرگرمیوں کی تشہیر سوشل میڈیا اور اشتہاری ویب سائٹس کے ذریعے کی۔قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان اداروں کے خلاف چھاپے مارے گئے، ان کے ذمہ داران کو گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے مہریں، پاسپورٹس، نقد رقم کی رسیدی کتابیں، حج و عمرہ ویزے اور تشہیری مواد برآمد ہوا۔
چند روز قبل سکیورٹی اداروں نے مزید 19 غیر لائسنس یافتہ سیاحتی کمپنیوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی، جو مختلف صوبوں میں اسی مجرمانہ طریقے سے شہریوں کو حج و عمرہ کے نام پر لوٹ رہی تھیں۔ملزمان کے قبضے سے جعلی دستاویزات، فرضی عمرہ پروگرامز اور نقد وصولی کی رجسٹرز برآمد ہوئیں، جس کے بعد حالیہ مہمات میں پکڑی جانے والی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کی مجموعی تعداد 44 ہو گئی۔
مصری حکام نے غیر قانونی حج کمپنیوں کے مافیا کے خلاف اپنی بھرپور مہم جاری رکھی ہوئی ہے، جو گزشتہ دو برسوں سے سامنے آ رہا تھا اور بڑے مسائل کا سبب بنا۔
وزارتِ سیاحت نے سوشل میڈیا پر حج و عمرہ کے لیے چلائی جانے والی جعلی اشتہاری مہمات کی نشاندہی کی ہے اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی اداروں کے اشتہارات کے جھانسے میں نہ آئیں۔
وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ شہری صرف منظور شدہ اور لائسنس یافتہ سیاحتی کمپنیوں سے ہی رابطہ کریں اور معاہدہ کرنے سے پہلے ان کی صداقت اور پروگراموں کی تصدیق ضرور کریں۔
وزارت نے وضاحت کی کہ غیر لائسنس یافتہ اداروں سے لین دین شہریوں کو دھوکہ دہی کا شکار بنا سکتا ہے، اس کے علاوہ سعودی عرب میں ویزا شرائط کی خلاف ورزی کے باعث ممکنہ قانونی خطرات بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔
وزارت نے خبردار کیا کہ ایسے ویزا رکھنے والے افراد جن پر فریضۂ حج کی اجازت نہیں ہوتی، وہ اپنے حقوق کی واپسی کے لیے وزارت کی جانب سے کسی معاونت کے مستحق نہیں ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی وزارت نے تمام شہریوں سے محتاط رہنے اور سرکاری طریقہ کار کی پابندی کرنے کی اپیل کی۔