مصر:جڑواں بھائی کی شناخت اختیار کر کے دو برس تک بطور ڈاکٹر کام کرنے کا انوکھا واقعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حیرت سے بھی زیادہ عجیب واقعے نے مصر کے طبی حلقوں میں اس وقت ہلچل مچائی، جب ایک نوجوان جو بیچلر آف سائنس کی ڈگری کا حامل تھا،اس نے اپنے جڑواں بھائی ’’ڈاکٹر‘‘ کی شناخت اختیار کر کے صوبہ البحیرہ کے ایک صحت مرکز میں اس کی جگہ کام کیا، دونوں کے درمیان غیر معمولی مشابہت سے فائدہ اٹھایا گیا۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ 29 سالہ احمد۔م۔ جو بیچلر آف سائنس کی ڈگری رکھتا ہے، اس نے اپنے جڑواں بھائی م۔م۔ جو ایک ڈاکٹر ہے،اس کی شخصیت اختیار کی اور'' شبراخیت مرکز'' سے وابستہ ایک صحت یونٹ میں اس کی جگہ کام کرنےشروع کر دیا، جہاں وہ تقریباً بغیر راز فاش ہونے کے دو برس تک مکمل طبی فرائض سرانجام دیتا رہا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اصل ڈاکٹر کو سرکاری شعبے سے باہر زیادہ تنخواہ والی ایک پرکشش ملازمت کی پیشکش ہوئی۔ تاہم جب اس نے بغیر تنخواہ چھٹی کی درخواست دی تو محکمۂ صحت البحیرہ نے اسے مسترد کر دیا، جس پر دونوں ہم شکل جڑواں بھائیوں نے ایک ’’خفیہ معاہدہ‘‘ طے کر لیا۔

اس معاہدے کے تحت سائنس کے گریجویٹ نے اپنے بھائی کی جگہ صحت مرکز میں اس کے فرائض سرانجام دینے شروع کر دیے تاکہ اس کی سرکاری ملازمت برقرار رہے، جبکہ اصل ڈاکٹر ایک نجی کمپنی میں کام کرنے کے لیے فارغ ہو گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ملزم اور اس کے بھائی کے درمیان اس قدر غیر معمولی مشابہت پائی جاتی تھی کہ صحت مرکز کے عملے اور وہاں آنے والے مریضوں کے لیے دونوں میں فرق کرنا تقریباً ناممکن تھا۔

معلومات سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ ’’جعلی ڈاکٹر‘‘ باقاعدگی سے مریضوں کا معائنہ کرتا اور طبی جانچ پڑتال انجام دیتا رہا، تاہم اس نے ایک محتاط حکمتِ عملی اپنا رکھی تھی۔ پیچیدہ یا مشکل طبی کیسز میں وہ مصروفیت کا بہانہ بنا لیتا یا حتمی طبی فیصلے کرنے سے گریز کرتا، تاکہ کسی ایسی غلطی سے بچ سکے جو اس کا بھانڈا پھوڑ دے۔

بالآخر صحت یونٹ میں کام کرنے والی ایک نرس نے اس فریب کو بے نقاب کر دیا۔ اسے ملزم کے بعض غیر معمولی رویّوں پر شک ہوا، جو ایک ڈاکٹر کی متوقع مہارت کے مطابق نہیں تھے، جس کے بعد اس نے متعلقہ حکام کو اطلاع دی، جنہوں نے حقیقت آشکار کر دی۔

اس واقعے کے بعد دونوں جڑواں بھائیوں کو تحقیقات کے آغاز کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا، جہاں انہیں سرکاری دستاویزات میں جعل سازی، ڈاکٹر کی حیثیت سے جعل سازی اور بغیر اجازت ڈاکٹر کے فرائض سر انجام دینے جیسے الزامات کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں