ٹرمپ کی طرف سے مصر اور ترکیہ کے صدور کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو خط لکھ کر باضابطہ طور پر غزہ مین امن منصوبہ آگے بڑھانے کے لیے امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں امن بورڈ کا قیام شامل ہے جو عبوری طور پر غزہ کے امور کی نگرانی کرے گا۔ نیز ٹیکنو کریٹس پر مشتمل انتظامی کمیٹی کی بھی مانیٹرنگ کرے گا۔

اس امن بورڈ کے سربراہ خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے۔ ان کی طرف سے صدر طیب ایردوآن کو اس امن بورڈ میں شمولیت کی دعوت کی تصدیق ہفتے کے روز ترک صدر کے دفتر نے بھی کر دی ہے۔

وائٹ ہاوس کی طرف سے جمعہ کے روز اس امن بورڈ کا اعلان کیا گیا اور کچھ ارکان کا اسی اعلان میں ذکر کیا گیا۔ امن بورڈ کی ایگزیکٹو کے ارکان میں ترک وزیر خارجہ خاقان فیضان کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، سٹیو وٹکوف، سابق وزیر اعظم برطانیہ ٹونی بلیئر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر کو بھی امن بورڈ کے ارکان میں شامل کیا گیا ہے۔

غزہ جس میں اسرائیلی جنگ دو سال سے زیادہ لڑی جاتی رہی۔ اس جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے اب تک 71 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک کیے ہیں۔ ان ہلاک کیے گئے فلسطینیوں میں بچوں اور خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ تاہم 10 اکتوبر 2025 سے ایک کمزور نوعیت کی جنگ بندی جاری ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں