امریکہ کے ساتھ مارچ کے آغاز میں مذاکرات ہوں گے:ایرانی عہدیدار کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مذاکرات کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوابی دھمکیوں اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت میں اضافے کے درمیان ایک ایرانی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ان کا ملک مارچ کے آغاز میں امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے ایک نئے دور کا انعقاد کرے گا۔

عہدیدار نے بتایا کہ امریکی فریق کے ساتھ ایک عبوری معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔

پابندیوں کا خاتمہ

عہدیدار نے یہ بھی واضح کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پابندیوں کے خاتمے کے دائرہ کار اور طریقہ کار کے حوالے سے نقطہ نظر میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ایرانی حدود میں موجود اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا ایک حصہ بیرون ملک برآمد کرنے پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے، حالانکہ ایرانی حکام اس سے قبل کئی سرکاری بیانات میں اس سے انکار کر چکے ہیں۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

افزودگی کا مسئلہ

انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے کسی بھی متوقع معاہدے کے ضمن میں یورینیم کی افزودگی کی سطح کو کم کرنے اور ایک علاقائی اتحاد میں شامل ہونے کے امکان کی طرف بھی اشارہ کیا۔

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے فریم ورک کے تحت ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے حق کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تہران اپنے تیل اور معدنی وسائل کا کنٹرول امریکہ کے حوالے نہیں کرے گا۔ البتہ انہوں نے ایرانی تیل اور گیس کے شعبوں میں امریکی کمپنیوں کی بطور ٹھیکیدار شرکت کے امکان کا ذکر کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گذشتہ جمعہ کو واضح کیا تھا کہ وہ جنیوا میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد چند دنوں میں ایک مجوزہ مسودہ تیار ہونے کی توقع کر رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ محدود فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں۔

دو ہفتوں کی مہلت

ادھر دو امریکی عہدیداروں نے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ ایران کے بارے میں امریکی فوج کی منصوبہ بندی ایک جدید مرحلے میں پہنچ چکی ہے، جس میں محدود حملے کے تحت افراد کو نشانہ بنانے یا ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر تہران میں نظام کی تبدیلی کے آپشنز شامل ہیں۔

یہ معلومات اس وقت سامنے آئی ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ جمعرات کو تہران کو کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی اور بصورت دیگر انتہائی برے حالات کا سامنا کرنے کی وارننگ دی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی کمک کی موجودگی نے ایک وسیع تر جنگ چھڑنے کے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں