ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایران پر حملے کے حوالے سے فی الحال کوئی متفقہ حمایت حاصل نہیں ہے۔
ایک دوسرے عہدیدار نے اشارہ دیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سفارتی راستے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تہران کو وقت ختم ہونے سے پہلے کسی معاہدے تک پہنچنا ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے یا یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے سے ہر صورت روکا جائے گا۔
اس سلسلے میں ’سی بی ایس‘ نیوز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ ایران سے نمٹنے کے لیے دو راستوں پر غور کر رہی ہے: یا تو مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے یا پھر محدود عسکری حملے کیے جائیں۔
نیٹ ورک کے ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صدر کے سامنے عسکری اور سفارتی دونوں آپشنز رکھے ہیں، تاہم انہوں نے عوامی سطح پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فی الحال تمام تر توجہ مذاکرات پر مرکوز ہے اور اگر اس سمت میں کوئی تبدیلی آئی تو وہ واضح طور پر نظر آئے گی۔
سفارتی محاذ پر ذرائع نے اشارہ دیا کہ جیرڈ کشنر وہ مرکزی شخصیت ہیں جنہیں مارکو روبیو سمیت دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ سفارتی معاہدے کی تفصیلات طے کرنے میں صدر کی مدد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے نجی ملاقاتوں میں ایران کے خلاف عسکری حملے نہ کرنے کی حمایت کی ہے۔
ایک عہدیدار نے وضاحت کی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان تمام مشاورتوں کو غور سے سن رہے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ وہ خود امریکی قومی سلامتی کے مفاد کو مدنظر رکھ کر کریں گے۔
ایران کے وزیر خارجہ کی جانب سے رواں ہفتے امریکہ کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات کے بعد چند دنوں میں ایک جوابی تجویز کا مسودہ تیار کرنے کے دعوے کے باوجود، امریکی صدر محدود عسکری حملوں کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ ایران کے لیے بہترین راستہ ایک "منصفانہ معاہدے" پر بات چیت کرنا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ "ایرانی قائدین عوام سے مختلف ہیں"۔ امریکی صدر کے یہ بیانات فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی دینے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئے ہیں۔
-
امریکہ کے ساتھ معاہدے کا مسودہ دو دن میں تیار ہو جائے گا: ایرانی وزیر خارجہ
جوہری پروگرام کا کوئی فوجی حل نہیں، واحد حل سفارت کاری ہے: عباس عراقچی
بين الاقوامى -
ایران میں ہلاکتوں کےدوران کی اموات بارے ہمارے ڈیٹا پرشک ہےتو ثبوت لائیں:ایرانی وزیر خارجہ
امریکی صدر کا دعویٰ تھا کہ ایران میں مظاہروں کے دوران 32 ہزار افراد ہلاک ہوئے
مشرق وسطی -
ایران پر ممکنہ حملے کی تیاری کے تناظر میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت کا جائزہ
دُنیا کا سب سے بڑا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ جمعہ کے روز بحیرہ روم ...
بين الاقوامى