امریکہ اور ایران کے پرچموں کی تمثیلی تصویر۔ (سٹاک فوٹو)
جیسا کہ ایران کا ایک وفد تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے جنیوا روانہ ہوا تو صدر مسعود پیزشکیان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران کو امریکہ سے مذاکرات کے تیسرے دور کے مثبت نتائج کا ایک موقع نظر آرہا ہے۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے پیر کے روز بتایا، امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر جمعرات کو جنیوا میں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد سے ملاقات کرنے والے ہیں۔
19 فروری کو ٹرمپ نے تہران کو معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 15 دن کا وقت دیا تھا۔
"مذاکرات کے سلسلے میں ہمیں کل ڈاکٹر عراقچی کی جنیوا میں ہونے والی میٹنگ میں ایک امید افزا امکان نظر آ رہا ہے۔ رہبرِ اعلیٰ کی رہنمائی کے ساتھ ہم نے کوشش کی ہے کہ اس عمل کو جنگ اور بے امنی کی صورتِ حال سے نکلنے کے لیے استعمال کیا جائے،" پیزشکیان نے سرکاری میڈیا پر کیے گئے تبصروں میں کہا۔
عراقچی نے منگل کے روز کہا، امریکہ کے ساتھ معاہدہ "قابلِ حصول ہے لیکن صرف اس صورت میں جب سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔"
امریکہ اور اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے جس سے اسرائیل کے وجود کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ایران کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام خالصتاً پرامن ہے حالانکہ اس نے یورینیم کی افزودگی اس حد تک حاصل کر لی ہے جو جوہری بم بنانے کے لیے ضروری ہے۔