ترکیہ کے ایک سفارتی ذریعے نے بدھ کو رائٹرز کو بتایا ہے کہ ترکیہ اپنے ہمسایہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کی صورت میں اٹھانے والے تمام ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایران اور امریکہ نے اس ماہ کے شروع میں مذاکرات دوبارہ شروع کیے جبکہ واشنگٹن شرقِ اوسط میں فوجی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ خطے میں امریکی مراکز پر حملہ کر دے گا لیکن تہران کے اعلیٰ سفارت کار نے منگل کو کہا کہ اگر سفارت کاری کو ترجیح دی جائے تو امریکہ کے ساتھ معاہدہ "قابلِ حصول" ہے۔
نیٹو کے رکن ترکیہ جس کی سرحد مشرق میں ایران سے متصل ہے، نے کہا ہے کہ وہ ایران پر کسی بھی فوجی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اور خطے میں عدم استحکام نہیں چاہتا۔ انقرہ کشیدگی کم کرنے کے لیے فریقین سے رابطے میں ہے اور اس نے سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔
"قدرتی طور پر ان اقدامات کے تمام پہلو زیرِ جائزہ ہیں جو کسی منفی پیش رفت کی صورت میں اٹھائے جا سکیں،" ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا۔
"تمام منظرناموں پر غور کیا جا رہا ہے؛ اور اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھانے والے اقدامات پر کام ہو رہا ہے" لیکن ساتھ ہی انہوں نے مزید کہا، "ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی" کرنے والے کسی بھی اقدام کا "سوال ہی نہیں" تھا۔
ترکیہ کن اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے، انہوں نے اس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
قبل ازیں غلط معلومات کے انسداد کے لیے ترک ایوانِ صدر کے دفتر نے میڈیا کی ان خبروں کی تردید کی تھی کہ ترکی مہاجرین کی ممکنہ آمد کو روکنے کے لیے ایرانی سرزمین میں داخل ہونے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔
-
مظاہروں میں شامل ہونے والے طلبہ ملکی سلامتی و وقار کی'ریڈ لائنز'کا خیال رکھیں:ایرانی حکومت
ایران میں پچھلے دو تین روز سے پھر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران حکام نے ...
مشرق وسطی -
ٹرمپ کا حملوں پر غور، سی آئی اے نے ایران میں ممکنہ مخبروں کو رابطے کے طریقے بتا دیے
وی پی این، ڈسپوزیبل ڈیوائس یا ڈارک نیٹ کے ذریعے رسائی کی ہدایات
بين الاقوامى -
جاپان کا ایران میں گرفتار اپنے شہری کی فوری رہائی کا مطالبہ
جاپان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ایران نے اس کے ایک شہری کو تہران میں حراست میں لے ...
بين الاقوامى