برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر پانچ مارچ 2026 کو لندن میں شرقِ اوسط کی صورتِ حال پر اپ ڈیٹ دے رہے ہیں۔ (بذریعہ اے پی)

برطانیہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی حمایت نہیں کرے گا: برطانوی وزیرِ اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے پیر کو کہا ہے کہ جو بھی دباؤ ہو، برطانیہ ایران جنگ میں نہیں گھسیٹا جائے گا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں شامل ہو گا۔

انہوں نے بی بی سی ریڈیو فائیو لائیو کو بتایا، "ہم ناکہ بندی کی حمایت نہیں کر رہے۔ آبنائے کو دوبارہ کھولنا بہت ضروری ہے۔ میرے خیال میں ضروری ہے کہ ہم آبنائے کھلوائیں اور مکمل کھلوائیں۔ اور اسی نکتے پر ہم نے گذشتہ چند دنوں میں اپنی تمام تر کوششیں کی ہیں اور ہم کوشش جاری رکھیں گے۔"

سٹارمر نے کہا، خطے میں برطانیہ کے پاس بارودی سرنگیں صاف کرنے والے بحری جہاز موجود ہیں اور فوجی صلاحیت "ہمارے نکتۂ نظر سے آبنائے کو مکمل کھولنے پر مرکوز ہے۔"

امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ پیر سے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل اور یہاں سے خارج ہونے والی تمام سمندری ٹریفک کی ناکہ بندی شروع کر دے گی۔ تاہم آبنائے ہرمز سے غیر ایرانی بندرگاہوں تک آنے جانے والے جہازوں کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ امریکی افواج بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو بھی روکیں گی، جس نے ایران کو نقصان پہنچایا ہو۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا، "جو بھی غیر قانونی ٹول ادا کرے گا، اسے بلند سمندروں پر محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔ کوئی بھی ایرانی جو ہم پر یا پرامن جہازوں پر گولی چلائے گا، اسے اڑا کر رکھ دیں گے!"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں