ایران جنگ مذاکرات میں کسی پیش رفت کا نہ ہونا 'مایوس کن' ہے: برطانوی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانوی حکومت کے وزیر ویس سٹریٹنگ نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل "مایوس کن" ہے۔ نیز کہا کہ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پر تبصرے "غیر معمولی" تھے۔

"یہ واضح طور پر مایوس کن ہے کہ ہم نے تاحال مذاکرات ایران میں اس جنگ کے خاتمے میں کوئی پیش رفت نہیں دیکھی ہے جو جاری ہے،" سٹریٹنگ نے سکائی نیوز کو بتایا۔

وزیرِ صحت نے مزید کہا، "ہمیشہ کی طرح سفارت کاری میں آپ ناکام ہو رہے ہیں۔ اگرچہ یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوشش جاری رکھنے میں کوئی حرج ہے۔"

سٹریٹنگ نے بحران کے دوران ٹرمپ کی بیان بازی پر بھی تنقید کی۔

"گذشتہ ہفتے کے دوران صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بعض بہت دلیرانہ، اشتعال انگیز باتیں کہی ہیں،" انہوں نے کہا۔

انہوں نے مزید کہا، "میرے خیال میں سوشل میڈیا پر ایرانی تہذیب کے خاتمے کی دھمکی پوسٹ کرنا نامناسب ہے، واقعی یہ کافی غیر معمولی ہے۔"

ٹرمپ اور برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیر سٹارمر کے درمیان ایران پر گرما گرم تبصروں کا تبادلہ ہوا اور ٹرمپ نے شکایت کی ہے کہ برطانوی رہنما شرقِ اوسط جنگ میں ان کے "حامی یا معاون نہیں رہے" اور ساتھ ہی یہ تبصرہ بھی کیا کہ "یہ ونسٹن چرچل نہیں ہے جس کے ساتھ ہم معاملہ کر رہے ہیں۔"

سٹریٹنگ نے کہا، برطانیہ ٹرمپ کے قول کی بجائے ان کے فعل کے مطابق فیصلہ کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا، "بالآخر اس صورتِ حال سے نکلنے کا واحد راستہ ایران سے ایسا معاہدہ کرنا ہے جو جوہری ہتھیاروں کو اس کے عزائم اور رسائی سے باہر کر دے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں