ایرانی معیشت کو ماہانہ 13 ارب ڈالر کا نقصان، پابندیوں کے ماہر کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

واشنگٹن میں 'فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز' کے فیلو اور امریکی وزارت خزانہ کے 'آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول' کے سابق شریک ڈائریکٹر میاد مالکی کے مطابق آبنائے ہرمز کی ممکنہ امریکی بحری ناکہ بندی ایرانی معیشت کے لیے جدید تاریخ کا سب سے شدید دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ اس ناکہ بندی سے نہ صرف برآمدات رک جائیں گی بلکہ درآمدات کی معطلی، کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی اور تیل کی پیداواری صلاحیت کے مستقل نقصان کا خطرہ بھی پیدا ہو جائے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق اس ناکہ بندی سے یومیہ 435 ملین ڈالر کا براہ راست نقصان ہو گا، جس میں 276 ملین ڈالر کی برآمدات کا نقصان اور 159 ملین ڈالر کی درآمدات میں رکاوٹ شامل ہے۔ یہ مجموعی طور پر ماہانہ 13 ارب ڈالر کے برابر بنتا ہے۔ ایرانی معیشت کا دارومدار تیل اور گیس پر ہے جو حکومتی برآمدی آمدنی کا 80 فیصد اور مجموعی قومی پیداوار کا 23.7 فیصد فراہم کرتے ہیں، جبکہ ایران کی سالانہ 109.7 ارب ڈالر کی غیر ملکی تجارت کا 90 فیصد سے زائد حصہ خلیج عرب سے گزرتا ہے۔

تیل کی آمدنی کو کاری ضرب

ممکنہ ناکہ بندی سے قبل ایران یومیہ 15 لاکھ بیرل تیل برآمد کر رہا تھا جس سے اسے یومیہ تقریباً 139 ملین ڈالر کی آمدنی ہو رہی تھی، تاہم بینکنگ پابندیوں کی وجہ سے اس آمدنی کا بڑا حصہ اسے واپس نہیں مل پاتا۔ بحری ناکہ بندی سے یہ آمدنی فوری طور پر صفر ہو جائے گی کیونکہ خام تیل کی 92 فیصد برآمدات 'جزیرہ خرج' سے ہوتی ہیں جو خلیج کے اندر واقع ہے اور اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں ہے۔



پیٹرو کیمیکل اور دیگر شعبوں میں تباہی

پیٹرو کیمیکل کے شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچے گا، جس کی 19.7 ارب ڈالر کی برآمدات مکمل طور پر ان بندرگاہوں سے ہوتی ہیں جو ناکہ بندی کی زد میں آئیں گی۔ اسی طرح سنہ 2025ء میں غیر ملکی تجارت کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یومیہ 79 ملین ڈالر کی دیگر معدنیات اور اشیاء کی برآمدات بھی رک جائیں گی۔ ایران کی 90 فیصد سے زائد بحری تجارت آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے، جہاں صرف 'بندر عباس' کی 'شہید رجائی بندرگاہ' 53 فیصد ترسیل کی ذمہ دار ہے۔

محدود متبادل اور گوداموں کی قلت

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے باہر کی بندرگاہوں پر انحصار کرنے کی امیدیں کمزور نظر آتی ہیں کیونکہ 'جاسک' اور 'چابہار' بندرگاہوں کی صلاحیت خلیج سے گزرنے والی تجارت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ایران کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش صرف 13 دن کی ہے، جس کے بعد اسے اپنے کنوئیں بند کرنے پڑیں گے۔ کنوؤں کی اس جبری بندش سے تیل کے ذخائر میں پانی داخل ہونے کا خطرہ ہے جس سے پیداواری صلاحیت کو مستقل طور پر 9 سے 15 ارب ڈالر سالانہ کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مہنگائی کا طوفان اور کرنسی کی بدحالی

ایرانی ریال کی قدر پہلے ہی شدید گر چکی ہے اور فروری سنہ 2026ء تک غذائی اشیاء کی مہنگائی 105 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اگر غیر ملکی کرنسی کے ذرائع مکمل طور پر کٹ گئے تو ایرانی ریال حتمی تباہی کی طرف بڑھے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا 10 ملین ریال کا نوٹ جاری کیا گیا ہے جس کی قیمت صرف 7 ڈالر کے برابر ہے۔ میاد مالکی کے مطابق آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ایرانی معیشت کو وقت کے خلاف ایک ایسی دوڑ میں دھکیل دے گی جس میں متبادل راستے تجارت کا 10 فیصد بھی پورا کرنے کے اہل نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں