وزير الخزانة الأميركي سكوت بيسنت (أرشيفية من رويترز)
ایران کی دھمکیوں کی وجہ سے فروری کے اواخر سے آبنائے ہرمز کے نیم بند ہونے کے باوجود امریکی وزیر خزانہ سکوٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ اگر وہ اس اہم بحری گزرگاہ سے مزید بحری جہازوں کو گزرتے ہوئے دیکھیں تو انہیں حیرانی نہیں ہوگی۔
بیسنٹ نے اتوار کے روز "فوکس نیوز" کو دیے گئے بیانات میں مزید کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کی کوششوں کے بدلے میں کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی ناکہ بندی ایرانی نظام کا دم گھونٹ رہی ہے ۔ یہ نظام اب اپنے فوجیوں کی تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان تمام لوگوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے جو ائی ار جی سی کو رقوم کے ذریعے مدد فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تیل کی قیمتیں؟
انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتیں، جو اس وقت ایک طرف امریکہ اور اسرائیل اور دوسری طرف ایران کے درمیان جنگ کے سائے میں اضافے کا شکار ہیں، اس سال کے آخر میں کم ہو جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ کے ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں بہت کم ہو جائیں گی۔ گزشتہ 28 فروری کو جنگ چھڑنے سے پہلے یومیہ 125 سے 140 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے لیکن کپلر کمپنی اور دیگر اداروں کے جہازوں کی ٹریکنگ کے ڈیٹا کے ساتھ ساتھ سائن میکس کے سیٹلائٹ تجزیوں نے دکھایا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس اہم گزرگاہ میں نقل و حرکت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہاں سے دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ اس بندش کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور کئی یورپی ممالک اس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
بیسنٹ کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ ایران کی اس ترمیم شدہ تجویز کا جواب دیں گے جو حال ہی میں پاکستان کے ذریعے ان کے ملک کو دی گئی ہے۔ نئی تجویز میں جنگ کو مستقل طور پر بند کرنے، آبنائے ہرمز کو کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری محاصرہ ختم کرنے کی بات کہی گئی ہے، جبکہ ایٹمی مسئلے پر بعد میں بات چیت کی جائے گی۔ بعد ازاں ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کا جواب موصول ہوگیا ہے۔
العربیہ/ الحدث کے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ایرانی پیشکش میں ایک ماہ کے دوران تین مراحل میں مذاکرات شامل ہیں جس میں تہران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی میکانزم پر رضامند ہے۔ ذرائع نے کہا ہے کہ ایران امریکی محاصرے کے خاتمے کے بدلے میں آبنائے ہرمز کو بتدریج کھولنے پر اتفاق کرے گا۔ مزید برآں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایرانی فریق نے نئی تجویز میں خطے سے امریکی افواج کے انخلاء کی شرط چھوڑ دی ہے۔