ایران کا بڑا کرپٹو پلیٹ فارم ایک ہی خاندان کے کنٹرول میں، خامنہ ای سے قریبی روابط کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

ایران میں ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کے بارے میں انکشاف سامنے آیا ہے کہ وہ ملک کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ پلیٹ فارم کو کنٹرول کرتے ہیں، ان کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق یہ پلیٹ فارم ابتدا میں ایک اسٹارٹ اپ کے طور پر شروع ہوا تھا، جسے علی اور محمد خرازی نے ''آغامیر ''کے فرضی نام سے قائم کیا۔

بعد میں یہ کمپنی بڑھ کر ایران میں کرپٹو لین دین کا ایک بڑا ذریعہ بن گئی، جسے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ مبینہ طور پر پابندیوں کی زد میں آنے والے سرکاری ادارے بھی استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پلیٹ فارم نے اپنے آغاز سے اب تک دسیوں بلکہ ممکنہ طور پر سینکڑوں ملین ڈالرز کی ایسی ٹرانزیکشنز سنبھالی ہیں، جو ایران کے مرکزی بینک اور پاسدارانِ انقلاب سے منسلک اداروں سے جڑی ہوئی ہیں۔

مزید بتایا گیا ہے کہ خرازی خاندان ایران کے طاقتور ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے افراد نے ماضی اور حال میں اعلیٰ سطحی سیاسی، سفارتی اور مذہبی عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں، ان کا شمار ملک کی بااثر اشرافیہ میں ہوتا ہے۔

تینوں سپریم لیڈرز سے ازدواجی رشتے

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ خاندان ایران کے تینوں سپریم لیڈرز سے ازدواجی رشتوں کے ذریعے منسلک ہے، یعنی بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی سے لے کر مرحوم علی خامنہ ای اور ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای تک۔

مزید انکشاف کے مطابق علی اور محمد خرازی نے ''آغامیر ''کے خاندانی نام کے تحت ''نو بیتکس'' نامی پلیٹ فارم کو ایران میں کرپٹو کرنسی کے سب سے بڑے نیٹ ورک میں تبدیل کیا، اندازوں کے مطابق اس کی ایران کی کرپٹو مارکیٹ میں تقریباً 70 فیصد تک حصہ داری ہے۔

اگرچہ ایران میں بعض افراد کے لیے مختلف یا متبادل خاندانی نام استعمال کرنا غیر معمولی بات نہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق یہ دونوں بھائی اپنی براہِ راست خاندانی شناخت سے ہٹ کر منظم طور پر ایک الگ نام کے تحت کام کرتے رہے ہیں۔

حکومت کا ایک ذریعہ

تحقیقات کے مطابق نو بیتکس ایک ایسا پل بن چکی ہے ،جو عالمی کرپٹو مارکیٹ تک رسائی فراہم کرتی ہے اور ایک متوازی مالی نظام کا مرکزی حصہ ہے، جس کے ذریعے رقوم کو مغربی پابندیوں کی پہنچ سے دور منتقل کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلاک چین کے ریکارڈز کے تجزیے، مالیاتی ماہرین سے انٹرویوز اور نو بیتکس سے منسلک سابق ملازمین کی گواہیوں کے مطابق ایرانی ریاست اس پلیٹ فارم کو اپنے اتحادیوں تک بینکنگ نظام کے باہر رقم منتقل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

مزید یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنگ کے دوران بھی نو بیتکس نے اپنی خدمات جاری رکھیں، حتیٰ کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ بندش اور تہران میں بجلی کی رکاوٹوں کے باوجود اس نے لین دین جاری رکھا۔

اس دوران تقریباً 100 ملین ڈالر سے زائد کا لین دین ہوا، جو معمول کی سرگرمی کا تقریباً 20 فیصد تھا۔

ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ پلیٹ فارم پر عام ایرانی صارفین کی بڑی تعداد بھی موجود ہے، جس کی وجہ سے ریاستی سرگرمی اور عام صارفین کے لین دین میں فرق کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

ٹرانزیکشن کے راستے چھپانا

اپنی سرگرمیوں اور مالی تفصیلات کو چھپانے کے لیے پلیٹ فارم اپنے والیٹ ایڈریسز تبدیل کرتا رہتا ہے اور مزید خفیہ کاری (Encryption) کے جدید طریقے استعمال کرتا ہے تاکہ لین دین کو ٹریس کرنا مشکل ہو جائے۔

رپورٹ کے مطابق صارفین کو بھی یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی ٹرانزیکشنز کو مختلف والٹس میں تقسیم کریں تاکہ ان کا سراغ لگانا مزید پیچیدہ ہو جائے۔

چھ سابق ملازمین نے انکشاف کیا ہے کہ بعض سرکاری اور سیکیورٹی اداروں نے بھی اس پلیٹ فارم کو پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کیا۔

اس کے علاوہ اس وقت مزید شواہد سامنے آئے جب ایرانی ارب پتی بابک زنجانی نے کچھ کرپٹو والٹس کے ایڈریسز جاری کیے، جن سے ظاہر ہوا کہ نو بیتکس ایک ایسے نیٹ ورک کے مرکز میں تھی، جس کے ذریعے کم از کم 20 ملین ڈالر کی رقوم منتقل کی گئیں، یہ پورا نیٹ ورک مجموعی طور پر 500 ملین ڈالر سے زیادہ کے لین دین سے منسلک بتایا گیا ہے۔

پلیٹ فارم کی تردید

دوسری جانب نو بیتکس نے حکومت سے کسی بھی براہِ راست تعلق یا ریاستی معاونت کے الزامات کی تردید کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر کسی غیر قانونی رقوم کا لین دین پلیٹ فارم کے ذریعے ہوا بھی ہے ،تو وہ انتظامیہ کی معلومات یا منظوری کے بغیر ہوا۔

نو بیتکس نے یہ بھی کہا کہ دونوں بھائیوں نے اپنی شناخت تبدیل نہیں کی اور نہ ہی کوئی فرضی نام استعمال کیا۔

کمپنی کے مطابق محققین کی جانب سے پیش کیے گئے بعض دعوے مبالغہ آمیز ہیں۔

بیان میں کہا گیا: نو بیتکس ایک نجی اور آزاد کمپنی ہے، یہ کبھی بھی حکومت کا حصہ یا اس کا کوئی بازو نہیں رہی اور نہ ہی اس کا مرکزی بینک، پاسدارانِ انقلاب یا کسی بھی سرکاری ادارے سے کوئی معاہدہ یا تعلق ہے۔


بانیان

رپورٹ کے مطابق مذکورہ کمپنی کے ابتدائی بورڈ آف ڈائریکٹرز میں دو بھائی علی (پیدائش 1986) اور محمد (پیدائش 1992) کے علاوہ امیر حسین راد شامل تھے۔

یہ تینوں تہران کی شريف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے فارغ التحصیل ہیں۔امیر حسین راد کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر انتظامی کردار ادا کرتے رہے، جبکہ محمد کو بلاک چین ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والا ماہر سمجھا جاتا ہے۔

سات سابق ملازمین قریبی افراد اور ماہرین کے بیانات کے مطابق دونوں بھائیوں نے ''خرازی'' خاندانی شناخت کو اپنے قریبی حلقوں سے بھی چھپائے رکھا۔

نو بیتکس نے ان سوالات کا جواب دینے سے انکار کیا کہ دونوں بھائیوں کا خرازی خاندان سے کیا تعلق ہے اور صرف یہ کہا کہ وہ ''آغامیر خاندان'' سے تعلق رکھتے ہیں۔

تاہم ایک ای میل پیغام جو علی کے نام سے بھیجا گیا، اس میں ''خرازی'' نام بھی شامل تھا، جس سے اس معاملے میں مزید ابہام پیدا ہوا۔

خاندانی شجرہ

رپورٹ کے مطابق محمد و عی نامی بزرگ شخصیت ایک فقیہ تھے، جنہوں نے ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی تدریس دی اور بعد ازاں مجلسِ خبرگان کے رکن بھی رہے۔

اسی خاندان کے ایک چچا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز رہے اور مختلف ادوار میں سپریم لیڈرز کے مشیر بھی رہے۔

ان کے والد آیت اللہ باقر خرازی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ایران میں ایک مذہبی و سیاسی تنظیم حزب اللہ کی بنیاد رکھی اور 1979 کے انقلاب کے بعد پاسدارانِ انقلاب (سپاہِ پاسداران) کی تشکیل و تنظیم میں کردار ادا کرنے کا دعویٰ کیا۔

مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خاندان کی ایک خاتون رشتہ دار نے موجودہ سپریم لیڈر کے بھائی سے شادی کی ہے، جس سے دونوں خاندانوں کے درمیان قریبی رشتوں کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں