امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے فریم ورک معاہدے پر سفارتی مسودوں کا تبادلہ جاری ہے، مگر اس کے ساتھ ہی خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
اسی پس منظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ تعطل کو توڑنے کے لیے ایک نئے فوجی آپشن پر بھی سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے، جس نے صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
اتوار کے روز صحافیوں کے ایک سوال کہ کیا وہ نئی فضائی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں،جواب میں ٹرمپ نے کہا: اگر انہوں نے غلط رویہ اختیار کیا یا کوئی برا قدم اٹھایا تو یہ امکان موجود ہے، لیکن فی الحال ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران نے گزشتہ جمعرات پاکستان کے ذریعے امریکا کو 14 نکات پر مشتمل ایک نیا نظرثانی شدہ فریم ورک معاہدہ پیش کیا تھا۔
ایک ماہ کی مہلت
باخبر ذرائع کے مطابق ایران کے مجوزہ نئے معاہدے میں ایک ماہ کی مہلت شامل ہے، جس کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری پابندیوں کے خاتمے اور ایران و لبنان میں جاری جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے، جیسا کہ ویب سائٹ ''اکسیوس'' نے رپورٹ کیا۔
ذرائع کے مطابق اس ابتدائی معاہدے تک پہنچنے کے بعد ہی ایران کے جوہری پروگرام پر باقاعدہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع کیا جائے گا، جو مزید ایک ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی شام میامی روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ ایرانی تجویز کا جائزہ لیں گے، تاہم بعد میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر اشارہ دیا کہ اس کی منظوری مشکل ہے۔
ان کے مطابق انہیں معاہدے کے نکات سے آگاہ کیا جا چکا ہے، لیکن وہ اس کی حتمی تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید لکھا کہ انہیں نہیں لگتا یہ معاہدہ قابلِ قبول ہوگا اور ان کے بقول ایران نے گزشتہ 47 سالوں میں کیے گئے اقدامات کے مقابلے میں ''کافی قیمت ادا نہیں کی ''۔
اسی دوران امریکی صدر نے ایران پر ممکنہ فوجی کارروائیوں کے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ اس حوالے سے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل براد کوپر سے ملاقات کی گئی، جو بعد میں بحیرہ عرب میں موجود امریکی بحری جہاز ''یو ایس ایس ٹرپولی'' پر فوجیوں سے بھی ملے۔
دوسری جانب ایرانی عسکری حکام نے بھی جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا اور کہا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارتکاری کا راستہ اپناتا ہے یا تصادم کا، جبکہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے دونوں صورتوں کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ اپریل سے جاری جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی کوششیں پاکستان کے ذریعے جاری ہیں، تاہم فریقین کے مؤقف میں واضح فرق بدستور موجود ہے۔
-
ٹرمپ کا ایران کی نئی تجویز پر سخت ردعمل، منظوری کو ناممکن قرار دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے امن مذاکرات کے ...
بين الاقوامى -
ایران کی 14 نکاتی ترمیم شدہ تجویز، آبنائے ہرمز پر مذاکرات کے لیے ایک ماہ کی مہلت
ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے کے ...
مشرق وسطی -
ایران کا بڑا کرپٹو پلیٹ فارم ایک ہی خاندان کے کنٹرول میں، خامنہ ای سے قریبی روابط کا دعویٰ
ایران میں ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد کے بارے میں انکشاف سامنے آیا ...
مشرق وسطی