فلسطینی لڑکیاں اور نوجوان خواتین غزہ کے خان یونس میں النور حفظِ قرآن مرکز میں داخل ہو رہی ہیں۔ (اے ایف پی)
غزہ جنگ سے بے سہارا ماں نے اپنی کم سن بیٹیوں کی شادی کر دی
بیٹیوں کی شادی کو بوجھ میں کمی سمجھا گیا لیکن اس سے مسائل اور" بڑھنے لگے"
ماجدہ ایک بے سہارا خاتون تھیں۔ ان کا شوہر اور بڑا بیٹا اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ غزہ میں ایک کچے خیمے میں چوہوں اور گندے پانی کی بدبو کے ساتھ رہنے پر مجبور خاتون اپنے بچوں کی کفالت نہیں کر سکتی تھیں اور انہیں خوف تھا کہ کیمپ میں مشترکہ بیت الخلاء میں جانے پر ان کی بیٹیوں کو ہراساں کیا جائے گا کیونکہ وہاں سینکڑوں اجنبی مرد ہوتے ہیں۔
تو انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس پر انہیں اب بہت افسوس ہے۔ انہوں نے اپنی 13 اور 14 سالہ بیٹیوں کی شادی ایسے مردوں سے کر دی جنہوں نے حفاظت اور مدد کا وعدہ کیا تھا۔ انہیں لگتا تھا کہ اس طرح بچیاں محفوظ ہو جائیں گی۔
ماہرین اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی مظالم نے غزہ میں جو تباہی مچائی ہے، اس سے کم عمر لڑکیوں کی شادیوں میں اضافے کو ہوا ملی ہے۔ تقریباً پوری آبادی بے گھر اور کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہے اور بعض والدین نے اپنی نوعمر بیٹیوں کی شادی کر کے ان کے لیے کسی قدر مالی استحکام کا راستہ تلاش کیا ہے۔
لیکن لڑکیوں کے لیے اس کا مطلب ان کے بچپن اور مستقبل کا ضیاع ہے - اور اکثر خطرناک حمل۔
ماجدہ کی بیٹیوں کے لیے اس کا مطلب خوفناک جسمانی استحصال تھا۔
فلسطین کے مرکزی ادارۂ شماریات کے مطابق جنگ سے پہلے کم عمری کی شادی کا رجحان کم تھا۔
بعض معاملات میں استثناء کے ساتھ غزہ میں شادی کی کم از کم قانونی عمر 17 سال ہے۔ اقوامِ متحدہ اور زیادہ تر انسانی گروپ 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کو کم عمری کی شادی سمجھتے ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ رجحان الٹ ہو گیا ہے
غزہ میں مرکزِ امورِ خواتین کی ڈائریکٹر امل صیام نے کہا، حقیقی شرح اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ جنگ کی افراتفری کے دوران کئی شادیوں کا اندراج نہیں ہوا۔ 2024 میں عدالت کے ریکارڈ کیے گئے شادی معاہدوں کی تعداد میں 35 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔
اے پی نے غزہ میں 13 سے 16 سال کے درمیان شادی کرنے والی چھے لڑکیوں اور ان کے والدین سے بھی سے بات کی۔ معاملے کی گہری حساسیت کی وجہ سے ان تمام نے اپنے مکمل نام نہیں بتائے۔ ماجدہ نے بھی پورا نام نہیں بتایا۔
تمام والدین نے کہا تھا کہ اگر جنگ نہ ہوتی تو وہ اپنی بیٹیوں کی اتنی کم عمر میں کبھی شادی نہ کرتے۔
غم سے نڈھال ماں
اپریل 2024 میں الگ الگ حملوں میں اپنے شوہر اور بیٹے کی ہلاکت کے بعد ماجدہ شدید ذہنی دباؤ میں آگئیں۔ انہیں سکون بخش ادویات لینا پڑیں جس کے باعث وہ اپنی لڑکیوں کا خیال نہیں کر سکیں۔
ان کے علاقے میں 20 سال سے زیادہ عمر کے دو بھائیوں نے ان کی بیٹیوں سے شادی کرنے پر راضی ہو گئے۔
ماجدہ جن کی اپنی شادی 14 سال کی عمر میں ہوئی، اپنی لڑکیوں کا اپنے جیسا انجام نہیں چاہتی تھیں۔ لیکن ان کے والد اس بات پر اصرار کرنے لگے کہ یہ واحد راستہ تھا۔ ماجدہ نے کہا کہ انہوں نے شادی کے کاغذات پر دستخط کرنے کا وعدہ کیا لیکن کہا کہ لڑکیوں کی رخصتی کے لیے جنگ ختم ہونے کا انتظار کرنا ہو گا۔
ماجدہ نے کہا۔ "میں نے غلط فیصلہ کیا۔ میں نہیں جانتی کہ میں اس پر کیسے راضی ہو گئی۔"
ماجدہ کی سب سے بڑی بیٹی جو اس وقت 14 سال کی تھی، شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بیٹی نے کہا، "میں نے سوچا کہ اگر شادی کر لی تو کسی کو میری مالی ذمہ داری لینا ہو گی۔ مجھے واقعی اس کا افسوس ہے۔"
شادی کو خاندانی بوجھ کم کرنے کا ایک طریقہ سمجھا جاتا ہے
اے پی سے بات کرنے والی زیادہ تر لڑکیوں نے کہا کہ ان کے والدین نے انہیں شادی کے لیے مجبور نہیں کیا۔ لیکن انہوں نے اپنے خاندانوں کا بوجھ ہلکا کرنا اپنا فرض سمجھا۔
شادی کر کے وہ اپنے شوہروں کے ساتھ ایک علیحدہ خاندان کے طور پر شمار کی گئیں تاکہ وہ اپنے والدین کے زیرِ انتظام رہنے کی بجائے امدادی گروپوں سے الگ خاندان کے تحت امداد حاصل کر سکیں۔ کئی لڑکیوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ جنگ کے دوران سکول زیادہ تر بند ہو گئے تھے تو انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی۔
ایک لڑکی نے بتایا کہ اس کے والد کم عمری کی شادی کے بالکل خلاف تھے اور اسے یونیورسٹی میں داخلہ دلوانا چاہتے تھے لیکن خاندان اس قدر مایوس تھا کہ باپ نے رضامندی ظاہر کر دی۔
لڑکی بھی راضی ہو گئی۔ وہ 16 سال کی تھی۔
اس نے کہا، "مجھے یہ بھی خدشہ تھا کہ اگر میرے والدین فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تو وہ اور اس کے بہن بھائی بے سہارا ہو جائیں گے۔ وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھی جب اس نے اے پی سے بات کی۔
ایک اور لڑکی نے بتایا کہ جب وہ خان یونس کے ایک ہسپتال میں پناہ گزین تھے تو وہاں مقیم ایک 25 سالہ شخص نے اس سے شادی کرنے کا کہا۔ پھر وہ بھی راضی ہو گئی۔
انہوں نے کہا، "اپنی زندگی بحال کرنے کے لیے شادی ہی واحد راستہ نظر آئی۔"
غزہ کا قانون والدین کی رضامندی اور جج کی اجازت کے ساتھ کم از کم 17 سال کی عمر کے استثناء کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن والدین بعض اوقات شادی کو سرکاری طور پر رجسٹر کیے بغیر غیر رسمی معاہدے کر لیتے ہیں۔ اے پی سے بات کرنے والی دو ماؤں نے ایسا کیا۔
امل صیام نے کہا، "جنگیں اور تنازعات زیادہ قدامت پسند روایات کی طرف واپسی کا باعث بنتے ہیں۔" شادی کرنے والی کم عمر لڑکیاں عصمت دری اور تشدد کا زیادہ شکار ہوتی ہیں بشمول سسرال والوں کی بدسلوکی جو ان پر گھریلو کام کا بوجھ ڈال دیتے ہیں۔
چونکہ کم عمری کی شادیوں میں طلاق کی شرح زیادہ ہوتی ہے تو "لڑکی ایک یا دو بچوں کے ساتھ گھر واپس آ جاتی ہے۔"
بعض لڑکیوں سے جنسی زیادتی ہوئی اور وہ فرار ہو گئیں
ماجدہ نے کہا کہ بیٹی کے سسرال والوں نے جلد ہی اسے اس کے 23 سالہ شوہر کے پاس لانے کا مطالبہ کیا جو دیر البلح میں خیموں میں رہ رہا تھا۔
پہلے 10 دنوں تک جب بھی اس کا شوہر اس کے پاس آتا تو وہ چیخ اٹھتی تھی۔ بڑی بیٹی نے کہا، "میں چیختی رہی اور اس نے مجھے مارا۔"
بالآخر اس کی ماں نے "میرے ہاتھ سر کے اوپر کر کے باندھ دیے،" بیٹی نے کہا۔ اس کے بعد شوہر نے اس کی عصمت دری کی۔
اس کے بعد آدمی نے بار بار اسے دھمکیاں دیں۔ اس نے عصمت دری کے بار بار ہونے والے واقعات کا ذکر کیا اور کہا کہ ایک موقع پر اسے بہتے خون کے ساتھ ہسپتال لے جانا پڑا۔
چند ماہ بعد چھوٹی 13 سالہ بہن کو بھی سسرال والے اس کے 21 سالہ شوہر کے پاس لے گئے۔ وہ "چیختی رہی کہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتی،" ماجدہ نے یاد کیا۔
چھوٹی بہن نے اے پی کو بتایا کہ اسے بھی اس کی ساس نے باندھ رکھا تھا اور اس کے شوہر نے اس کی عصمت دری کی۔ اس نے بتایا کہ اس کے دو اسقاط حمل ہوئے۔ یہ دونوں واقعات تب ہوئے جب اس کے شوہر نے اسے دورانِ حمل لاتیں ماریں۔
ماجدہ کی بڑی بیٹی کا بیٹا پیدا ہوا۔ مہینوں بعد نومبر میں وہ اپنے بیٹے کو لے کر 15 کلومیٹر دور بھاگ کر اپنی ماں کے خیمے میں آ گئی۔
تھوڑے عرصے بعد چھوٹی بیٹی بھی ماجدہ کے پاس واپس بھاگ آئی۔ تب انہیں پتہ چلا کہ وہ حاملہ تھی۔
لڑکیوں کو نہایت خطرناک حمل کا تجربہ
العودہ ہسپتال کے زچگی وارڈ کے سربراہ یاسر شعبان نے کہا کہ وسطی غزہ میں وارڈ میں جنگ کے دوران نوعمر لڑکیوں کی شرح حمل میں اضافہ دیکھا گیا۔ کئی ایک کو اتنی کم عمری میں حاملہ ہونے سے صحت کی شدید پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے علاوہ اکثریت غذائیت کی قلت کا شکار تھی کیونکہ امداد پر اسرائیلی پابندیوں نے غزہ کی آبادی کو تقریباً قحط کے دہانے پر پہنچا دیا تھا۔
ایک لڑکی کی ماں نے بتایا کہ وہ بچے کی پیدائش کے دوران شدید خون بہنے سے تقریباً نیم مردہ ہو گئی تھی۔ وہ 16 سال کی تھی اور اس وقت غذائیت کی شدید قلت کا شکار تھی۔
لڑکی نے کہا، ’’میں (پیدائش کے بعد) کئی دنوں تک بے ہوش رہی اور میں کچھ دیر تک اپنی بیٹی کو اٹھا نہیں سکی۔
ایک اور تکلیف دہ فیصلہ
ماجدہ کی بیٹیاں اپنے شوہروں کے پاس واپس جانے کی کسی بھی بات سے خوفزدہ تھیں۔ اپریل میں اے پی سے بات کرتے ہوئے ان کی سب سے چھوٹی بیٹی نے کہا کہ واپس جانا "موت" کے مترادف ہو گا۔
ماجدہ نے کہا کہ ان کی چھوٹی بیٹی ہمیشہ بہت باتونی، چنچل لڑکی رہی ہے۔ لیکن شادی کے بعد سے "وہ کسی سے بات نہیں کرتی، نہ اپنے شوہر سے اور نہ مجھ سے۔"
لڑکیاں سکول کھلنے کے بعد واپس آگئی تھیں لیکن بڑی بیٹی نے کہا کہ وہ خود کو الگ تھلگ اور شرمندہ محسوس کرتی ہے کیونکہ وہ واحد طالبہ تھی جو شادی شدہ اور ایک بچے کی ماں تھی۔ اس نے کہا کہ وہ خود بچی ہونے کے باوجود ایک بچے کی ماں تھی۔
اس نے کہا، "میں تھکن سے چور ہو گئی ہوں۔ میں مر جانا چاہتی ہوں۔"
ماجدہ اپنے والد اور بیٹی کے سسرال والوں کے شدید دباؤ میں تھیں۔ وہ اپنی بیٹیوں، پوتے اور نئے آنے والے بچے کی کفالت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی۔
غزہ میں خواتین اپنے شوہروں کو طلاق دے سکتی ہیں لیکن یہ عمل مہنگا اور پیچیدہ ہے۔ طلاق بدنامی کا باعث بھی بنتی ہے خاص طور پر خواتین کے لیے اور لڑکیوں کے لیے دوبارہ شادی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
سسرال والوں نے ماجدہ کو یقین دلایا کہ اس کی بیٹیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا۔
انہیں لگا کہ ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ تو لڑکیاں مئی کے شروع میں اپنے شوہروں کے پاس واپس چلی گئیں جو اب غزہ شہر میں ہے۔ اس کے بعد سے ماجدہ اپنی بیٹیوں سے رابطہ نہیں کر پائیں۔
انہوں نے کہا، "وہ واپس نہیں آنا چاہتی تھیں۔ وہ رو رہی تھیں۔"