فرانس نے پبلک پراسیکیوٹر سے کہا ہے کہ وہ فرانسیسی شہریوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی تحقیقات کرے جو غزہ جانے والے حالیہ فلوٹیلا کا حصہ تھے، یہ بات فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں نول بیروٹ نے جمعہ کو کہی۔
بیروٹ نے فرانس انٹر ریڈیو کو بتایا، "میں نے ترکیہ میں اپنے قونصل جنرل سے ایک رپورٹ کی درخواست کی جس سے مجھے جنسی تشدد، سرد موسم کی سختی، مار پیٹ اور فرانسیسی شہریوں کی بار بار تذلیل کا پتا چلا۔ یہ تمام کارروائیاں ممکنہ طور پر جرم کے زمرے میں آتی ہیں تو میں نے کل فیصلہ کیا کہ معاملہ پبلک پراسیکیوٹر کے پاس بھیجا جائے۔"
غزہ فلوٹیلا کے منتظمین نے بتایا کہ کارکناں کو بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا، کئی زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ گئے اور کم از کم 15 افراد نے جنسی حملوں کی اطلاع دی جس میں عصمت دری بھی شامل ہے۔ اس کے بعد کارکنان کو رہا کر دیا گیا ہے۔
فرانسیسی فلوٹیلا کارکنان کے وکلاء نے کہا ہے کہ ان کے مؤکلین خود پر ہونے والے تشدد بشمول ذلت آمیز سلوک، عصمت دری اور اذیت رسانی کی کارروائیوں کے بارے میں ایک الگ شکایت درج کروائیں گے۔
اس معاملے پر بات کرنے کے لیے بیروٹ کی کابینہ نے انہیں دعوت دی ہے جسے مسترد کرتے ہوئے انہوں نے ایک بیان میں کہا، "وزیر کے اعلانات اپنی جگہ لیکن ہمیں یہ بات نہیں بھولے گی کہ فرانسیسی حکومت نے نسل کشی کے آغاز سے ہی اسرائیل کی حمایت کی ہے۔"