آئل ٹینکر
واشنگٹن کے ساتھ مفاہمت کے بعد ایرانی تیل بردار جہازوں کی سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز
پانچ جہاز جن میں تین آئل ٹینکر بھی شامل ہیں، اس وقت ایرانی بندرگاہوں کی طرف رواں دواں ہیں
ایرانی ٹیلی ویژن نے منگل کے روز اعلان کیا کہ واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کے بعد ایرانی تیل بردار جہازوں اور دیگر بحری جہازوں نے اپنی بحری کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ یہ امریکی بحری ناکہ بندی میں نرمی کی جانب ایک قدم معلوم ہوتا ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن کے نمائندے نے بتایا کہ تین ایرانی آئل ٹینکر بحر ہند کے شمال میں رواں دواں ہیں، جبکہ بنیادی اشیاء اور چارہ لے جانے والے دو دیگر جہاز جنوبی بندرگاہوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ 13 اپریل سے عائد امریکی ناکہ بندی کے خاتمے کی جانب اشارہ ہے۔
اس کے برعکس روئٹرز کے مطابق پیر کو جاری ہونے والے ایک امریکی فوجی میمو میں کہا گیا تھا کہ ایرانی بندرگاہوں پر ناکہ بندی جمعہ تک جاری رہے گی۔
منگل کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح 9:06 بجے برینٹ خام تیل کے سودے 1.44 ڈالر کی کمی سے 81.73 ڈالر اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 1.55 ڈالر کی کمی سے 79.20 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔ قیمتوں میں یہ کمی آبنائے ہرمز سے سپلائی کی بحالی کے امکانات، طلب میں کمی اور ایران جنگ کے خاتمے کے ابتدائی معاہدے کی تفصیلات کے فقدان کے باعث ہوئی ہے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کو کہا کہ ایران اور امریکہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا نیا دور شروع کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان پر اسرائیلی حملہ یا لبنانی سرزمین پر اسرائیلی موجودگی کو امریکہ کے ساتھ عبوری معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
آبنائے ہرمز جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فی صد تیل اور ایل این جی کی سپلائی کا ذریعہ تھا۔ تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ جلد ہی یہاں سے سپلائی بحال ہو جائے گی۔ گولڈمین سیکس نے برینٹ خام تیل کی چوتھی سہ ماہی کی پیش گوئی 90 ڈالر سے کم کر کے 80 ڈالر کر دی ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ خلیجی برآمدات جولائی کے آخر تک جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں گی۔
ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کھل جائے گا اور جنگ بندی میں 60 دنوں کی توسیع ہو گی، جس سے مذاکرات کاروں کو جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ مسائل پر بات کرنے کا موقع ملے گا۔ تاہم ڈی بی ایس بینک کے انرجی ریسرچ کے سربراہ سوفرو سرکار نے کہا کہ مارکیٹیں دوسرے مرحلے پر گہری نظر رکھیں گی جس میں آبنائے ہرمز کو آہستہ آہستہ کھولنا اور ایرانی بندرگاہوں سے امریکی ناکہ بندی ہٹانا شامل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اعتماد کے فقدان کے باعث صورتحال میں اتار چڑھاؤ کا امکان برقرار ہے۔