میزائل پروگرام امریکہ سے مذاکرات کا حصہ نہیں:ایرانی وزارت خارجہ
ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام امریکہ کے ساتھ ہونے والے آئندہ مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا، یہ مذاکرات دونوں ممالک کے صدور کے دستخط کردہ مفاہمت کے یادداشت کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نےجمعرات کے روز ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ہمارے میزائلوں کے بارے میں کسی کو بات کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی میزائل صرف لانچ کرنے کے لیے ہیں نہ کہ مذاکرات کے لیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں کسی بھی شکل میں، کسی بھی راستے پر اور کسی بھی فریق کے ساتھ زیر بحث نہیں آئیں گی۔
امریکہ کا موقف اور ردعمل
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے پر کچھ نرم دکھائی دیے ہیں۔ فرانس کی میزبانی میں ہونے والی جی سیون سربراہی کانفرنس کے موقع پر کل دیے گئے بیانات میں انہوں نے کہا کہ یہ غیر منصفانہ ہے کہ ایران کے پاس میزائل نہ ہوں۔
Your browser doesn’t support HTML5 video
انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ میزائلوں سے متعلق موقف جوہری ہتھیاروں کے موقف سے مختلف ہے۔
گذشتہ جنگ میں نقصان
یاد رہے کہ سنہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے دوران ایرانی میزائل انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ تہران ماضی میں بھی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی بحث کو مسترد کرتا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جنگ شروع ہونے سے قبل خبردار کیا تھا کہ ایران کو اپنے میزائل ذخیرے کے بارے میں مذاکرات کرنے کی ضرورت ہوگی، جسے واشنگٹن اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
مفاہمت کی یادداشت
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ہم منصب مسعود پزشکیان نے کل بدھ کی شام جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس کا مقصد 60 دن کی مدت کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے جس میں ایران کا جوہری پروگرام اور تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔ تاہم اس مفاہمت میں ایران کے میزائل پروگرام کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جس پر امریکہ اور اسرائیل طویل عرصے سے تنقید کرتے رہے ہیں۔