امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد سوئٹزرلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ مذاکرات کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
سوئس حکومت نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی مذاکرات کل پہاڑی سیاحتی مقام بورگن اسٹاک (Bürgenstock) میں منعقد کیے جائیں گے۔
ایجنڈے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں
سوئس وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ فی الحال اجلاس کے ایجنڈے کے بارے میں کوئی اضافی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔اس سے قبل یہ بتایا گیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کل بورگن اسٹاک میں ایک ملاقات متوقع ہے، جس میں دونوں فریقین کے ساتھ ساتھ ثالث ممالک پاکستان، قطر اور دیگر متعلقہ ممالک بھی شریک ہوں گے۔
یہ ابتدائی مذاکرات معاہدے پر عملدرآمد سے متعلق امور پر ہوں گے، تاہم سوئس وزارتِ خارجہ کے مطابق اس اجلاس کی تفصیلات اور ایجنڈا تاحال واضح نہیں کیا گیا۔
I am honoured to announce that the historic ‘Islamabad Memorandum of Understanding’ has been electronically signed today between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. The Memorandum has been signed by honourable Presidents of both the countries and also…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 18, 2026
مذاکرات میں کن امور پر بات ہوگی؟
العربیہ/الحدث کے ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور کل براہِ راست طور پر منعقد ہوگا۔ان مذاکرات میں، جن میں پاکستان اور قطر بھی شریک ہوں گے، ایران کے بیرونِ ملک منجمد مالی اثاثوں سے متعلق امور پر بات چیت کی جائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سیاسی پہلوؤں پر بھی غور کیا جائے گا، جبکہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے متعلق قانونی معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔
ذرائع کے مطابق بعض اجلاسوں میں ترکیہ اور سعودی عرب بھی شریک ہوں گے، جہاں خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اسی دوران ایک غیر اعلانیہ مذاکراتی نشست میں لبنان کی صورتحال اور حزب اللہ سے متعلق امور بھی زیرِ بحث آئیں گے۔
معاہدہ فوری طور پر نافذ
پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا معاہدہ دونوں فریقوں کے دستخط کے فوراً بعد نافذ العمل ہو گیا ہے، اگرچہ اس کی باضابطہ دستخطی تقریب کل جمعہ کو منعقد ہونا ابھی باقی ہے۔
شہباز شریف کے ملک نے ثالثی میں کردار ادا کیا، انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دے گا جبکہ امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، قطر کی معاونت سے، 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس تاریخی معاہدے کی باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا، جہاں تکنیکی سطح کے مذاکرات کا بھی آغاز ہوگا۔امریکی اہلکار کی جانب سے صحافیوں کو پڑھ کر سنائی گئی ،مفاہمتی یادداشت کے مطابق امریکا نے معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اگر حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو واشنگٹن ایران پر عائد تمام پابندیاں مکمل طور پر ختم کر دے گا، تاہم یہ عمل 60 روزہ مذاکراتی مدت کے اختتام پر ہوگا۔
معاہدے کے مطابق ایران کو 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز میں مکمل بحری آمد و رفت بحال کرنا ہوگی، کیونکہ اس کی بندش سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔