امریکہ اور ایران کا دور سے مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط... با ضابطہ نفاذ کے لیے راہ ہموار
قصرِ ورسائی سے روانگی کے وقت ٹرمپ نے بتایا کہ "میں نے ایران کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کر دیے ہیں".
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان نے مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کر دیے ہیں تاکہ اس کا با ضابطہ نفاذ ہو سکے۔ یاد داشت کے اہم نکات میں جنگ کا خاتمہ، محاصرے کا اٹھایا جانا اور آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی ضمانت شامل ہے۔ ٹرمپ نے قصرِ ورسائی سے روانگی کے وقت کہا کہ میں نے ایران کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کر دیے ہیں۔
ایک امریکی اہل کار نے بدھ کی شام فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے۔ اس حوالے سے axios نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ دستخط فرانسیسی صدر کے ساتھ عشائیے کے دوران ہوئے۔
صور لتوقيع ترمب على مذكرة التفاهم مع إيران pic.twitter.com/ujXGlU7Bqd
— العربية (@AlArabiya) June 18, 2026
اہل کار سے جب اس رپورٹ کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ٹرمپ نے گروپ سات کے سربراہی اجلاس کے بعد قصرِ ورسائی میں فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کے ساتھ عشائیے کے دوران ذاتی طور پر اس کی ایک کاپی پر دستخط کیے ہیں... تو جواب دیا گیا کہ میں دستخط کی تصدیق کر سکتا ہوں۔
اسی دوران ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مفاہمت کی یاد داشت پر با ضابطہ دستخط ہو چکے ہیں لیکن مذاکراتی وفد کو سوئٹزرلینڈ جانا ہو گا۔ انہوں نے جمعہ کو ہونے والی دستخطی تقریب کے منسوخ ہونے کی طرف اشارہ کیا۔
ارنا نیوز ایجنسی نے امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت پر پزشکیان کے دستخط کرنے کی تصاویر جاری کیں۔
اس سے قبل ایران نے امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمت کی یاد داشت کے نکات شائع کیے اور یہ نکات بڑی حد تک واشنگٹن کی طرف سے پہلے شائع کردہ نکات کے مطابق تھے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کرتے ہیں اور 60 دنوں کے مذاکرات کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے پابند ہیں جن میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ ایران اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائے گی، جبکہ امریکہ ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا پابند ہے۔ واشنگٹن اپنے علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے ایران کی اقتصادی بحالی کا پروگرام ترتیب دے گا۔
ایران کے چیف مذاکرات کار اور اسپیکر اسمبلی محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تین ماہ سے زائد کی جنگ کے بعد امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت واشنگٹن کی شکست ہے۔
قالیباف نے بدھ کی رات سرکاری ٹیلی ویژن پر فریقین کی جانب سے یاد داشت کا متن جاری کیے جانے کے فوراً بعد کہا کہ یہ معاہدہ امریکہ کے لیے شکست ہے۔ لوگ اسے دیکھیں گے اور خود فیصلہ کریں گے۔
قالیباف نے اس بات پر زور دیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت میں شامل 60 دنوں کی ٹیکس فری مدت کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جب تک کہ حتمی متن پر بات چیت نہ ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔
قالیباف نے مزید کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں خود مختار حق حاصل ہے اور یقیناً ہم ان خدمات کے عوض ٹیکس وصول کریں گے۔
اس کے برعکس ٹرمپ نے بدھ کے روز دھمکی دی کہ اگر تہران نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی تو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دوبارہ آغاز کر دیا جائے گا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ بین الاقوامی خیرمقدم کے باوجود معاہدہ اب بھی نازک ہے۔
ٹرمپ نے فرانسیسی شہر ایویان میں گروپ سات کے سربراہی اجلاس کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی موجودگی میں کہا کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت حتمی نہیں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر مجھے یہ پسند نہ آئی تو ہم ان پر دوبارہ فائرنگ کرنے اور ان کے سروں پر بم گرانے کی طرف واپس چلے جائیں گے۔
امریکی صدر کے مطابق اگر انہوں نے اپنا رویہ درست نہ کیا تو ہم فوراً ان کے سروں کے بالکل درمیان بم گرانے کی طرف واپس جائیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مفاہمت کی یاد داشت میں تہران پر عائد پابندیوں میں فوری نرمی شامل نہیں ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر بعد میں بات کی جائے گی۔