شاہ سلمان کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس، سعودی عرب خطے میں امن و استحکام کے لیے پرعزم
غیر ملکیوں کی جائیداد کی ملکیت سے متعلق نئے نظام کی منظوری
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی عرب کی کابینہ کے اجلاس میں خطے اور دنیا میں امن و استحکام قائم کرنے کے لیے جاری کوششوں کی حمایت اور انسانیت کی خدمت کے لیے سعودی عرب کے ثابت قدم موقف کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر جاری پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔
اجلاس کے آغاز میں کابینہ کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک بات چیت اور چیچنیا کے صدر رمضان قدیروف کی جانب سے موصول ہونے والے پیغام کے مندرجات سے آگاہ کیا گیا۔
وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے بتایا کہ کابینہ نے مملکت میں ترقیاتی راستوں اور ویژن 2030 کے تحت حاصل ہونے والی کامیابیوں کا جائزہ لیا۔ کابینہ نے 'ورلڈ کمپیٹیٹونس ایئر بک 2026ء‘ میں سعودی عرب کے عالمی سطح پر 13ویں اور جی 20 ممالک میں تیسرے نمبر پر آنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ، مملکت نے لگاتار تیسرے سال 'سائبر سکیورٹی انڈیکس' میں دنیا بھر میں پہلی پوزیشن برقرار رکھی ہے، جو ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن میں سعودی قیادت کا ثبوت ہے۔
اجلاس میں 'صحت کے شعبے کی تبدیلی' کے پروگرام اور 'نِدلب' (صنعتی ترقی اور لاجسٹک خدمات) پروگرام کی کامیابیوں کو سراہا گیا، جس نے غیر تیل معیشت کی نمو اور برآمدات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
کابینہ کے اہم فیصلے
غیر ملکیوں کے جائیداد حاصل کرنے کے نظام اور ان جغرافیائی علاقوں کی منظوری دی گئی جہاں غیر ملکی جائیداد خرید سکتے ہیں۔
پہلے مشترکہ سعودی مصری سیٹلائٹ کو ڈیزائن اور تعمیر کرنے کے اقدام کی منظوری دی گئی۔
وزارت ثقافت میں 'ثقافتی آرکائیو' کو 'سعودی ثقافتی میموری سینٹر' میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
جرمنی کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کی مفاہمت کی یادداشت اور نیپال و نائیجیریا کے ساتھ افرادی قوت کے تقرر کے معاہدوں کی منظوری دی گئی۔
امریکہ اور سعودی حکومت کے درمیان تعلیم و تربیت کے شعبے میں تعاون کی یادداشت کی بھی منظوری دی گئی۔