امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22 جون 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صدارتی حکم نامے پر دستخط کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

ٹرمپ کا اصرار: ایران جوہری معائنے پر رضامند ہو گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اصرار کیا ہے کہ ایران نے مستقبل میں طویل عرصے تک جوہری معائنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے حالنکہ ایران نے کہا ہے کہ اس نے ایسا نہیں کیا۔

انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، "ایران نے مستقبل میں طویل عرصے تک اعلیٰ ترین جوہری معائنے پر مکمل طور پر اتفاق کیا ہے۔ "یہ 'جوہری ایمانداری' کو یقینی بنائے گا۔ اگر وہ اس پر راضی نہ ہوئے تو مزید مذاکرات نہیں ہوں گے!"

ایران نے انکار کیا ہے کہ اس نے اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کیے یا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اپنے ملک دوبارہ مدعو کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رہنے دے گا کیونکہ ممکن ہے ایرانی بندرگاہوں کی دوبارہ ناکہ بندی ضروری ہو البتہ اس کے بارے میں انہوں نے کہا، "اس وقت اس کا بہت کم امکان ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ پیر کو آبنائے ہرمز سے 19 ملین بیرل تیل کے جہاز روانہ ہوئے۔

امریکہ نے نوزائیدہ امن معاہدے کے تحت پیر سے 60 دنوں کے لیے ایران پر عائد پابندیاں معاف کر دیں۔

ٹرمپ نے منگل کے روز کہا ہے کہ جو فنڈز امریکی محکمہ خزانہ جاری کر رہا ہے، وہ امریکی کنٹرول میں فریقِ ثالث کے ذریعے دیے جائیں گے اور یہ خصوصی طور پر امریکہ سے خوراک بشمول مکئی، گندم اور سویابین اور طبی سامان خریدنے کے لیے استعمال ہوں گے۔

ٹرمپ نے لکھا، "ان اشیاء کی ایران کو اشد ضرورت ہے۔ یہ ایک انسانی بحران ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ابھی مدد کرنا ضروری ہے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔"

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں