حکومت نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے دورے سے قبل منگل کو وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔ حکام نے اسلام آباد کے ریڈ زون تک ٹریفک اور رسائی کو محدود کر دیا ہے جو ایک انتہائی حفاظتی علاقہ ہے اور یہاں اہم سرکاری عمارات واقع ہیں۔ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے حالیہ مذاکرات کے بعد دونوں ممالک گفتگو کے نئے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ایرانی صدر کا دورہ سوئٹزرلینڈ کے برگن سٹاک میں امریکی اور ایرانی حکام کی ملاقات کے بعد ہو رہا ہے۔ امن مذاکرات میں پاکستان نے تنازعہ کے دوران ایک کلیدی ثالثی کا کردار ادا کیا اور فریقین کے درمیان پیغام رسانی جاری رکھی جس کی بدولت بالآخر واشنگٹن، تہران اور اسلام آباد نے یادداشت پر دستخط کیے۔
اسلام آباد پولیس نے دورے سے قبل جاری کردہ ایک عوامی ہدایت میں کہا، "اسلام آباد میں کسی بھی سمت یا ہائی وے سے تمام ہیوی ٹریفک کا داخلہ نصف شب سے تا حکمِ ثانی معطل رہے گا۔"
نیز کہا، "میریئٹ اور مارگلہ روڈ کے داخلی راستوں کے علاوہ ریڈ زون کے تمام داخلی راستوں ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند رہیں گے۔"
علاوہ ازیں پاکستان کے کابینہ ڈویژن نے اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع وزارتوں، ڈویژنز اور دیگر سرکاری دفاتر کے عملے کو منگل کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی جبکہ وزیرِ اعظم کے دفتر، وزارتِ خارجہ و داخلہ اور پارلیمنٹ سمیت اہم اداروں کو مستثنیٰ قرار دیا۔
پیزشکیان کی منگل کے اواخر میں وزراء اور ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ آمد کی توقع ہے اور امید ہے کہ فریقین جاری سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، شعبہ توانائی میں تعاون اور علاقائی روابط کو بہتر کرنے پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایرانی صدر مملکت کے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری سے ملاقات اور وزیرِ اعظم شہباز شریف سے مذاکرات کریں گے۔
وزارت نے پیر کو ایک بیان میں کہا، "دورے کے دوران فریقین دوطرفہ تعلقات کا مکمل جائزہ لیں گے اور تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، عوام کے درمیان تبادلے اور علاقائی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے نئی راہیں تلاش کریں گے۔"
نیز کہا، یہ دورہ سفارتی مصروفیات کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بات کرنے کا بھی موقع فراہم کرے گا۔
یہ دورہ پیزشکیان کا بطور صدر پاکستان کا دوسرا دورہ ہو گا۔
پاکستان کی حالیہ ثالثی کوششوں سے نہ صرف تہران کے ساتھ روابط کو فروغ ملا بلکہ ایک سفارتی عمل کی بنیاد بھی رکھی گئی ہے جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں اور وسیع تر علاقائی سلامتی کے خدشات پر تنازعات کو حل کرنا ہے۔
پیزشکیان کے دورے سے قبل ایرانی اور پاکستانی حکام نے سفارتی عمل کی حمایت کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق ہفتہ کو دورۂ تہران کے دوران پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایرانی صدر سے ملاقات کی جنہوں نے سفارت کاری اور جنگ بندی طے کرنے اور تنازع کے خاتمے میں مدد کرنے والی کوششوں پر اسلام آباد کے کردار کی تعریف کی۔
ایرانی صدر نے پاکستان سے تعاون کو وسعت دینے کے لیے تہران کے عزم پر بھی زور دیا اور ہمسایہ ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے وسیع تر روابط بہتر بنانے کے منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
دونوں ممالک نے حال ہی میں تجارت، روابط اور علاقائی استحکام میں تعاون بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔