مفاہمت کی یادداشت امریکہ کی شکست کا اعلان ہے:قالیباف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے علاقائی سکیورٹی کے حوالے سے اپنے ملک کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ ذمہ داری صرف خطے کے ممالک کی ہونی چاہیے۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمت کی یادداشت کو "امریکہ کی شکست کا اعلان" قرار دیا ہے۔

ایران کے چیف مذاکرات کار نے بدھ کے روز آذربائیجان میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی پارلیمنٹس کی یونین کے بیسویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "علاقائی سکیورٹی کی ضمانت خطے کے ممالک کو دینی چاہیے"۔

لبنان بہت اہم ہے

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک باہمی عدم مداخلت اور خودمختاری کے احترام کی بنیاد پر خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

Your browser doesn’t support HTML5 video

اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "لبنان میں جنگ بندی انتہائی اہم ہے اور یہ اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی ایران پر جنگ کا خاتمہ۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "امریکہ کے ساتھ دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت امریکہ کی شکست کا اعلان ہے۔"

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان جو کئی ماہ سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ہفتے دونوں فریقین کے درمیان تکنیکی مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔

یاد رہے کہ امریکی اور ایرانی وفود نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب سوئٹزرلینڈ میں 18 گھنٹے طویل براہِ راست مذاکرات کیے تھے، جنہیں بعد میں مثبت قرار دیا گیا تھا۔

اس دوران کئی امور پر تبادلہ خیال کے لیے مشترکہ ورکنگ کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا، جن میں ایران پر سے پابندیاں ہٹانا، بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی بحالی، آبنائے ہرمز، لبنان میں جنگ اور جوہری فائل سر فہرست ہیں۔

14 نکات پر مشتمل مفاہمت کی یادداشت میں اس بات کا ذکر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے تاکہ 60 دنوں کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے، جس میں دونوں فریقین کی رضامندی سے توسیع بھی ممکن ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں