مفاہمت کی یادداشت میں ایرانی تنصیبات کے معائنے کی شق شامل ہے:رافیل گروسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایٹمی تنصیبات کے معائنے کے حوالے سے ایرانی اور امریکی حکام کے متضاد بیانات کے درمیان انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے تصدیق کی ہے کہ ایجنسی کے انسپکٹرز ایران کے جوہری مقامات کا دورہ کریں گے۔

گروسی نے جاپان کے فوکوشیما ڈائیچی جوہری پاور پلانٹ کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انسپکٹرز ایران میں یورینیم کی افزودگی کے مراکز کا دورہ کریں گے جو 18 جون کو طے پانے والی امریکہ ایران مفاہمت کی یادداشت کا ایک بنیادی حصہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں سیاسی بیانات کو سمجھ سکتا ہوں، وہ حقیقت کا حصہ ہیں، لیکن میں آپ کو یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں جس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جوہری مواد کی تنصیبات سے متعلق کی جانے والی سرگرمیوں کی ایجنسی مکمل طور پر نگرانی کرے گی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ظاہر ہے کہ ایسا کرنے کے لیے ہمیں معائنہ کرنا ہوگا۔ یہ چاہے پرسوں ہو، ایک ہفتے میں ہو یا دس دن میں۔ یہ اہم تو ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ یہ عمل ضرور ہوگا۔"

Your browser doesn’t support HTML5 video

سب سے زیادہ واضح اور حتمی موقف

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے سربراہ کی جانب سے یہ اب تک کا سب سے واضح اور حتمی بیان ہے، جو ایران کے جوہری ذخائر کی حیثیت کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب منگل کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان اس حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے تھے کہ آیا ان مقامات کا معائنہ کیا جائے گا یا نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے معائنے کی یقین دہانی کرائی تھی، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان جوہری تنصیبات (جن میں فوردو، نطنز اور اصفہان شامل ہیں) کے معائنے پر کسی بھی قسم کی رضامندی کی تردید کی تھی۔

یہ معائنے اس معاہدے کے لیے انتہائی اہم ہیں، جس میں ایران کے اعلیٰ سطح کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو "کم درجے" پر لانے کا ذکر ہے۔

ایران ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے، حالانکہ وہ دنیا کا واحد ملک ہے جو جوہری ہتھیاروں کا پروگرام نہ ہونے کے باوجود 60 فیصد تک یورینیم کی افزودگی کرتا ہے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں