آزاد جموں و کشمیر میں 29 جون 2026 کو سڑک کی بندش سے گاڑیوں کی قطار لگی ہوئی ہے۔ (اسامہ اقبال خواجہ)
پاکستان اپوزیشن اتحاد: پولیس نے رہنماؤں کو آزاد کشمیر کا دورہ کرنے سے روک دیا
جے اے اے سی کی تحریک سے خطہ حالیہ عرصے میں بدامنی سے متأثر ہوا ہے
پاکستان کے ایک کثیر الجماعتی اپوزیشن اتحاد نے پولیس پر اپنے رہنماؤں کو روکنے کا الزام لگایا ہے جو پیر کے روز مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بدامنی سے متأثرہ آزاد کشمیر جا رہے تھے اور ساتھ ہی خطے میں بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کے درمیان قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔
شہری حقوق کے کالعدم گروپ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے اس ماہ خطے کی حکومت کے خلاف مظاہروں کی قیادت کی جس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والوں سے جھڑپیں ہوئیں اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ حکام نے کہا ہے کہ رواں ماہ ہونے والے مظاہروں میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
جے اے اے سی مظفرآباد اور خطے کے دیگر شہروں میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے مہاجرین کے لیے انتخابی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے خلاف احتجاجی دھرنوں کی قیادت کر رہی ہے۔ اتحاد کا الزام ہے کہ مرکزی دھارے کی پاکستانی سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر میں حکومت سازی پر اثر انداز ہونے کے لیے یہ نشستیں استعمال کرتی ہیں۔ حکومت اس کی تردید کرتی ہے اور مظاہرین کو قانون ہاتھ میں لینے سے خبردار کر چکی ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے قائدین بشمول سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی، بزرگ سیاستدان محمود خان اچکزئی اور مصطفیٰ نواز کھوکھر دھرنا مظاہرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آزاد کشمیر جا رہے تھے کہ ضلع راولپنڈی کے کہوٹہ میں پولیس نے انہیں روک لیا۔
ٹی ٹی اے پی نے ایک بیان میں کہا، "وفد کے اراکین نے پولیس حکام سے پوچھا کہ انہیں کس قانونی اختیار کے تحت آگے بڑھنے سے روکا جا رہا تھا۔ جواب میں پولیس نے کہا کہ انہیں 'اعلی حکام کے احکامات' کی بنیاد پر وفد کو روکنے کی ہدایت کی گئی تھی۔"
ٹی ٹی اے پی نے کہا، ہمارے رہنماؤں نے اس اقدام پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پرامن سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور آزاد کشمیر کے لوگوں سے اظہارِ یکجہتی کرنا ان کا حق تھا۔ اتحاد نے دلیل دی کہ اس کے رہنماؤں کو بغیر کسی قانونی حکم یا تحریری ہدایت کے آگے بڑھنے سے روکنا ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی تھی۔
وفد نے کہا کہ انہیں روکنا "سیاسی آزادیوں پر پابندیاں" لگانے کے مترادف تھا۔
جے اے اے سی اور آزاد کشمیر حکومت کے درمیان کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب 27 جولائی کو خطے کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے مظاہرین پر پرتشدد مظاہروں سے انتخابات میں خلل پیدا کرنے کا الزام لگایا۔