پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد کے ساتھ خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی کارروائی کی، جس کے بعد مسلح افراد کے ٹھکانوں پر مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں 29 مسلح افراد ہلاک ہوئے۔
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اتوار کے روز "ایکس" پلیٹ فارم پر ذکر کیا کہ پاکستان نے یہ کارروائی ملک بھر میں مسلح افراد کی جانب سے کیے گئے متعدد حملوں کے جواب میں کی ہے۔
بعد ازاں انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ مشرقی افغانستان کے تین صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین اہداف کو درست حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے... اور ان کاررائیوں میں 25 مسلح افراد ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پیر کے روز بتایا کہ مشرقی افغانستان میں پاکستانی حملوں کے نتیجے میں درجنوں شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
In the aftermath of recent multiple terrorist incidents inside Pakistan against the innocent people of Khyber Pakthunkhwa, Balochistan and Pakistan Rangers (Sindh) Camp, Karachi, a well planned intelligence based ground operation was carried out by security forces along… pic.twitter.com/bIcbXOpWxW
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) June 28, 2026
مجاہد نے "ایکس" پلیٹ فارم پر ایک بیان میں کہا کہ فضائی حملوں میں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ کے صوبوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے پاکستانی فوجی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ جارحانہ اقدام قرار دیا۔
یہ کارروائی اس حملے کے ایک روز بعد کی گئی جس میں آتشی اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد سے لیس مسلح افراد نے پاکستان کے جنوبی ساحلی شہر کراچی میں نیم فوجی دستوں رینجرز کے علاقائی ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین اہل کار ہلاک ہوئے۔
سکیورٹی فورسز نے تین حملہ آوروں کو ہلاک کرنے اور چوتھے حملہ آور کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بارے میں فوج کا کہنا تھا کہ وہ افغان شہری ہے اور زخمی تھا۔
اس کے برعکس جماعت الاحرار جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا ایک منحرف دھڑا ہے، اس نے ہفتے کی شام جاری ہونے والے ایک بیان میں کراچی حملے کی ذمہ داری قبول کی۔