Hamas police officers stand guard, amid a ceasefire between Israel and Hamas, in Gaza City, October 11, 2025. (Reuters)

ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو غزہ میں ہتھیاروں کی نگرانی کرنی چاہیے: امن بورڈ

حماس کی جانب سے اپنی حکومت تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد رد عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کردہ بورڈ آف پیس نے کہا ہے کہ غزہ کا انتظام سنبھالنے والی فلسطینی کمیٹی کو غزہ کی پٹی میں ہتھیاروں کی نگرانی کرنی چاہیے۔ یہ بات حماس تحریک کی جانب سے اپنی حکومت کو تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد کہی گئی ہے۔

امن بورڈ نے "ایکس" پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اصول یہ تقاضا کرتا ہے کہ ایک اتھارٹی، ایک قانون اور ایک ہتھیار ہو۔ اور اس کا مطلب ہے کہ تمام ہتھیاروں کو غزہ کے انتظام کے لیے قائم قومی کمیٹی کے کنٹرول میں متحد کیا جائے۔ یہ کمیٹی اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کے بعد تشکیل دی گئی تھی۔

دوسری جانب حماس کے ترجمان حازم قاسم نے "العربیہ" کو دیے گئے بیانات میں اس بات کی تصدیق کی کہ تحریک غزہ کی پٹی میں اگلے دن کے حکومتی انتظامات کا حصہ نہیں ہوگی اور ہتھیار ایک فلسطینی فریق کے پاس ذخیرہ کیے جائیں گے۔

انہوں نے ثالثوں پر زور دیا کہ وہ غزہ کی پٹی کی انتظامی کمیٹی کو لانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ حماس کی سرکاری میڈیا ویب سائٹ نے سرکاری ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ اور قائم مقام سرکاری فالو اپ کے سربراہ محمد عبد الخالق الفرا کے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے اور سرکاری ایمرجنسی کمیٹی کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ قدم غزہ کی پٹی میں حکومتی نظام کو غزہ کے انتظام کے لیے قائم قومی کمیٹی کے سپرد کرنے کے عمل کے لیے انتظامی اور قانونی انتظامات کی تکمیل کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتظامات فلسطینی دھڑوں اور قوتوں کے نمائندوں، خاندانوں اور قبائل کی اعلیٰ کمیٹی اور سول سوسائٹی کے اداروں کے سامنے اقوام متحدہ کے ایک مبصر نمائندے کی موجودگی میں پیش کیے گئے تھے۔

العربیہ کی تازہ خبریں Google News کے ذریعے حاصل کریں

اسی بارے میں