حماس کا غزہ میں اپنی حکومت تحلیل کرنے کا اعلان ... اسرائیل نے اسے دھوکہ دہی قرار دیا
حماس تنظیم کا العربیہ سے گفتگو میں کہنا ہے کہ تنظیم غزہ میں بعد کے دنوں کے حکومتی انتظامات کا حصہ نہیں بنے گی
فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ کی پٹی میں حکومتی امور چلانے والی اپنی ایمرجنسی کمیٹی کو ختم کرنے اور اس کے سربراہ کے استعفے کا اعلان کیا ہے، تاکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے تحت انتظامی امور ... قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کے سپرد کیے جا سکیں۔ دوسری جانب اسرائیلی نشریاتی ادارے نے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حماس کی حکومت کا خاتمہ محض ایک میڈیا پروپیگنڈا ہے اور استعفے کے اعلان کے باوجود حماس کے تمام ارکان اپنے عہدوں پر برقرار ہیں۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے آج پیر کے روز العربیہ کو دیے گئے بیان میں واضح کیا کہ تنظیم غزہ کی پٹی میں بعد کے دنوں کے حکومتی انتظامات کا حصہ نہیں بنے گی اور ہتھیار کسی فلسطینی فریق کے پاس جمع کرائے جائیں گے۔ حازم قاسم نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی پٹی کے انتظامی امور سنبھالنے والی کمیٹی کی فعالیت کے لیے دباؤ ڈالیں۔
غزہ میں حکومتی میڈیا آفس نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کو اقتدار سونپنے کی تیاری مکمل کر لی ہے اور اس حوالے سے انتظامی و قانونی انتظامات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ انتظامات فلسطینی دھڑوں، قبائل کی اعلیٰ کمیٹی، سول سوسائٹی اور اقوام متحدہ کے مبصر کی موجودگی میں پیش کیے گئے ہیں۔
حماس تنظیم کے با خبر ذرائع نے بتایا کہ تنظیم نے یہ اقدام خیر سگالی کے اظہار کے طور پر کیا ہے۔ قومی کمیٹی کا قیام امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دی گئی امن کونسل کے تحت عمل میں آیا تھا، جس نے اکتوبر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔
حماس تنظیم کے ایک با خبر ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ تنظیم نے غزہ میں حکومتی کمیٹی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جب تک قومی کمیٹی با ضابطہ طور پر امور سنبھال نہیں لیتی، تب تک ایک قومی سطح پر قابل قبول شخصیت کو عبوری امور کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ مارچ 2025 میں اسرائیل کے ہاتھوں حکومتی کمیٹی کے سربراہ عصام الدعالیس کے قتل کے بعد محمد الفرا نے، جو مقامی حکومت اور بلدیات کے وزیر تھے، بیس رکنی کمیٹی کی صدارت سنبھالی تھی۔ اب محمد الفرا اور ان کی کمیٹی کے ارکان اپنے استعفے پیش کریں گے تاکہ اسے ایک عارضی انتظامی کمیٹی میں تبدیل کیا جا سکے۔
قاہرہ میں مذاکرات میں شریک ایک فلسطینی دھڑے کے عہدیدار نے بتایا کہ حماس نے ثالثوں کو اس پیش رفت سے آگاہ کر دیا ہے اور فلسطینی دھڑوں نے حماس کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک سنجیدہ قدم قرار دیا ہے۔ قومی کمیٹی کے سربراہ علی شعث اور اس کے ارکان فی الحال قاہرہ میں مقیم ہیں، کیونکہ اسرائیل نے ابھی تک ان کے غزہ میں داخلے کی منظوری نہیں دی ہے۔ حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے مصر، قطر اور ترکیہ کے ثالثوں کے ساتھ قاہرہ میں متعدد دور کی بات چیت کی ہے تاکہ غزہ معاہدے پر حماس اور اسرائیل کے موقف میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
-
غزہ کی تعمیر نو کے لیے تخفیف اسلحہ بنیادی شرط ہے: بنجمن نیتن یاھو
ہمیں جنوبی لبنان میں یلو لائن کے ساتھ رہنے کی قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہے
بين الاقوامى -
ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور حماس کی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت
حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ محمد درویش اور باسم نعیم شامل
مشرق وسطی -
اقتدار کی منتقلی کی تیاری کے لیے حماس ''کمیٹی برائے حکومتی امور'' تحلیل کرنے پر آمادہ
معاہدے کے اگلے مرحلے میں رکاوٹیں دور کرنے کے لیے قاہرہ میں فلسطینی رہنماؤں کے ...
مشرق وسطی