علی شعث نے غزہ کے انتظامی امور کی 'نیشنل کمیٹی' کی کامیابی کی شرائط واضح کر دیں

علی شعث کے نزدیک کامیابی کا انحصار ایک اتھارٹی، ایک قانون اور ایک اسلحہ کے وجود پر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ پٹی کے انتظام کے لیے تشکیل دی گئی ’نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ (این سی اے جی) کے سربراہ علی شعث نے اعلان کیا ہے کہ حماس تنظیم کی جانب سے غزہ کی پٹی میں اپنی حکومت ختم کرنے کے اعلان کے بعد، نیشنل کمیٹی غزہ کی پٹی کے انتظامی امور سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔

علی شعث نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ نیشنل کمیٹی اپنے کام کے لیے درکار وسائل کی فراہمی کے فوراً بعد اپنی قومی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

کمیٹی کے سربراہ نے کمیٹی کے فرائض کی انجام دہی کے لیے سازگار سیاسی، سکیورٹی اور انتظامی ماحول کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا اور مزید کہا کہ کامیابی کا انحصار ایک ہی اتھارٹی، ایک ہی قانون اور ایک ہی اسلحہ کے وجود پر ہے۔

علی شعث نے واضح کیا کہ ان کا یہ بیان حکومتی امور کی نگرانی کرنے والے سربراہ کے استعفے، ایمرجنسی کمیٹی کے خاتمے اور نیشنل کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کو انتظامی امور منتقل کرنے کی تیاریوں کے مکمل ہونے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

اس سے قبل آج حماس تنظیم نے غزہ کی پٹی میں حکومتی امور چلانے والی اپنی ایمرجنسی کمیٹی کو ختم کرنے اور اس کے سربراہ کے استعفے کا اعلان کیا تھا، تاکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے تحت انتظامی امور نیشنل کمیٹی برائے انتظامِ غزہ کے سپرد کیے جا سکیں۔

حماس تنظیم کے ترجمان حازم قاسم نے پیر کے روز العربیہ کو دیے گئے بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ تنظیم غزہ کی پٹی میں بعد کے دنوں کے حکومتی انتظامات کا حصہ نہیں بنے گی اور ہتھیار کسی فلسطینی فریق کے پاس جمع کرائے جائیں گے۔ انہوں نے ثالثوں سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی پٹی کے انتظامی امور سنبھالنے والی کمیٹی کی فعالیت کے لیے دباؤ ڈالیں۔

حماس تنظیم کے با خبر ذرائع نے اس سے قبل بتایا تھا کہ تنظیم نے یہ اقدام خیر سگالی کے اظہار کے طور پر کیا ہے، تاکہ نیشنل کمیٹی کو غزہ کی پٹی میں اس کے انتظامی امور سونپے جا سکیں۔

نیشنل کمیٹی کا قیام علی شعث کی سربراہی میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دی گئی امن کونسل کے تحت عمل میں آیا تھا، جس نے گذشتہ برس اکتوبر میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے میں ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں